ویب ڈیسک: بھارت کی معروف اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان کو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) پر سوشل میڈیا پر تنقید کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پروفیسر علی خان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اپیل کی تھی کہ بی جے پی کی نفرت انگیز مہم اور مشتعل ہجوم کے حملوں کا شکار بننے والوں کے حق میں آواز بلند کی جائے۔ ان کے اس بیان پر حکام نے ان پر " اشتعال انگیزی" کا الزام عائد کرتے ہوئے حراست میں لے لیا۔
پروفیسر کی گرفتاری نے ملک بھر میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے اور پروفیسر علی خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اختلافِ رائے کو دبانے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس سے جمہوری اقدار کو شدید خطرات لاحق ہیں۔