پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر پالیسی مذاکرات آج سے شروع

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر پالیسی مذاکرات آج سے شروع
کیپشن: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر پالیسی مذاکرات آج سے شروع

ویب ڈیسک: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز آج سے ہو گیا ہے، جو 23 مئی تک جاری رہیں گے۔ ان مذاکرات میں ٹیکس اصلاحات، اخراجات میں کمی، اور قرضوں کی ادائیگی جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ 2025 کے مالی سال کے دوران مجموعی آمدن کو 20 کھرب روپے تک بڑھایا جائے، جبکہ موجودہ مالی سال میں یہ آمدن تقریباً 17.8 کھرب روپے رہی ہے۔

سخت مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت

آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات پر سخت کنٹرول ضروری ہے۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی کے بغیر معیشت کو مستحکم کرنا ممکن نہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو اگلے مالی سال میں تقریباً 19 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کی واپسی کرنا ہے، جس کے لیے قرضوں کی پائیدار ادائیگی کو یقینی بنانا آئی ایم ایف کی اولین ترجیح ہے۔

ٹیکس اصلاحات اور دیگر تجاویز

مذاکرات کے دوران پاکستان کی جانب سے متعدد ٹیکس تجاویز بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں شامل ہیں:

پراپرٹی کی خرید و فروخت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز
پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں نرمی
تعمیراتی صنعت کے خام مال پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ
سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 11 فیصد تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائے گا، جبکہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے سے متعلق تجاویز بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گی۔

آئندہ بجٹ کا نقشہ

آنے والے دنوں میں ان پالیسی مذاکرات کی روشنی میں آئندہ بجٹ کی شکل واضح ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے کامیاب معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی مارکیٹ میں اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے، جو معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔

Watch Live Public News