ویب ڈیسک: نیویارک سٹی میں سڑکوں پر خوف کا راج، چاقو اور چھری سے لیس شہری کے راہگیروں پر وار، دو ہلاک ایک شدید زخمی۔ اوبر ڈرائیور کی اطلاع پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق نیویارک پولیس نے حملے میں استعمال ہونے والے مشتبہ ہتھیار، باورچی خانے میں استعمال کے ایک بڑے، خون آلود چاقو کی تصویر جاری کی ہے۔
نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز نے ایک میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دو افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور ایک زخمی خاتون اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعے میں"ہم نے ایک شخص کو حراست میں لیاہے اور ہم مزید کسی اور مشتبہ شخص کو تلاش نہیں کر رہے۔"
پولیس نے بتایا کہ مشتبہ شخص نے سب سے پہلے شہر کے مغرب میں مین ہیٹن کے چیلسی کے علاقے میں صبح 8:22 بجے کے قریب ایک زیر تعمیرعمارت کے باہر ایک شخص پر حملہ کیا۔ شدید زخمی ہونے والا 36 سالہ شخص بعد میں انتقال کر گیا۔
حملہ آور نے اس کے دو گھنٹے بعد شہر کے باہر، مشرقی دریا پر مچھلیاں پکڑنے والے ایک شخص پر حملہ کیا، جس سے 68 سالہ شخص موقع پر ہلاک ہو گیا۔
اپنے تیسرے حملے میں مشتبہ شخص نے صبح 10:55 پر، اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے قریب ایک 36 سالہ خاتون پر حملہ کیا۔ وہ نازک حالت میں شہر کے ایک اسپتال میں ہیں۔
پولیس کے مطابق مشتبہ شخص 51 سال کا ہے، جسے اس سے قبل آٹھ بار گرفتارکیا جاچکا ہے، اسے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کےقریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جہاں وہ باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح تھا۔
سراغ رساں اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چھرا گھونپنے کے واقعات کے درمیان کیا تعلق ہے اور اس حملے کا محرک کیا تھا۔
حملہ آور اپنے شکار بے ترتیب طور پر چنتا دکھائی دیتا ہے:
میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف آف ڈیٹیکٹیوز جو کینی نے کہا کہ "وہ بس ان لوگوں کے پاس آیا اور چاقوؤں سے ان پر وار کرنا شروع کر دیا۔"
میئر نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ مشتبہ شخص کو ذہنی صحت کے شدید مسائل ہیں۔ ایک اوبر ڈرائیور نے اسے چھرا گھونپتےدیکھا اور پولیس کو کال کی۔
ایڈمز نے کہا کہ ڈرائیور کی فوری کارروائی مشتبہ شخص کی گرفتاری کا باعث بنی اور ممکنہ طور پر مزید تشدد کو روکا گیا۔