ویب ڈیسک: فیصل واوڈا نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کو بچانے کیلئے کوئی نہیں بچا، سب کمپرومائزڈ ہیں۔ 24 نومبر کی کال غریب کو مروانے کیلئے دی گئی ہے۔24 نومبر والا ڈرامہ پانی کا بلبلا بننے جارہا ہے۔ 24نومبرپکنگ ہے انجوائے کریں،یہ خان کی آخری کال ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی یہ نہ سیکنڈ لاسٹ کال ہے اور نہ ہی آخری کال ہے۔ امریکا ہماری جیولوجیکل اہمیت کو سمجھے۔ ہمیں دشمن نہیں دوست سمجھ کر ہمارے ساتھ بات کریں۔
فیصل واوڈا نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں روز کوئی ایک نیا میچ شروع ہو جاتا ہے۔ میں پی ٹی آئی کا پرانا ورکر رہ چکا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں ہوتے کوئی فائدہ نہ اٹھائے۔ اس ملک میں لیڈروں کی لاش پر سیاست ہوتی رہی۔ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کمپرومائزڈ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اب عمران خان کی بات پر یقین کرنا ہو گا کہ بیرونی مداخلت ہو رہی ہے۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک کانگریس کا خط آ گیا ہے۔ اب عمران خان کی بات ماننی ہو گی کہ رجیم چینج کے لیے مداخلت ہوئی۔ امریکہ میدان میں آ گیا کہ ہیومن رائٹس وائلشن ہو رہی۔ امریکہ کو کشمیر میں فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ یہ لوگ انسانی حقوق کے چمپئین بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایک نئی مداخلت ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا حامی ہوں۔ میں پاکستان کے سیاستدان کی طرح ٹویٹ کر کے ڈیلیٹ نہیں کرتا۔ اگر آپ نے چمپئین بننا ہے تو مکمل بنیں ، دیکھیں کوئٹہ میں کیا ہوا۔ آپ چاہتے کیا ہیں کیا آپ بانی پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں یا مخالف؟ اب آپ پاکستان کی سیاست میں براہ راست مداخلت کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اندر خانے آج بھی بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات تو ہو رہے ہیں۔ آج گنڈاپور کس کا پیغام لے کر اڈیالہ جیل گئے ؟ مجھے اس حکومت سے کوئی انس نہیں ، انھیں ہینڈل کرنا نہیں آتا۔ ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوا اس کو گولی لگی ، میں بھی الزام لگاتا ہوں کہ سیکریٹ سروس فیل ہوئی۔ کسی یو ایس کی کانگرس کے لیٹر سے کیا فرق پڑتا ہے۔ آپ ملک کی ترقی کے لیے اپنی رائے دیں ،لیکن مداخلت قبول نہیں ہے۔ امریکہ کی کانگریس کے لوگوں کو خطے کی ترقی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ مداخلت کا ڈرامہ بند ہونا چائیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 24 کو کچھ نہیں ہو رہا ،کوئی رہائی نہیں ہونے جا رہی۔ عمران خان کو جیل میں ڈال کر سب اپنی اپنی مراعات لے رہے ہیں۔ 26 ویں ترمیم ہو گئی اگر ضرورت ہوئی تو 27 ویں بھی ہو جائے گی۔ بھٹو کو پھانسی ہوئی کوئی امریکن نہیں آئے۔ ضیا الحق کا جہاز پھٹا اس میں امریکن بھی مرے کوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ نواز شریف کی دو تہائی اکثریت کو اٹھا کر بائر پھینک دیا تب کچھ نہیں ہوا۔ آج بانی پی ٹی آئی کی بات ہوئی تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہونا شروع ہو گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگلے 72 گھنٹے میں چیزیں کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ پی ٹی آئی کی قیادت کہیں موجود نہیں ہے۔ پی ٹی آئی دھڑے بندی کا شکار ہے۔ اللہ تعالیٰ بانی پی ٹی آئی کی آنکھیں کھولیں کہ وہ دیکھ سکیں کہ ہو کیا رہا۔ کوئی ایم این اے ایم پی اے 50 بندے لے کر نہیں آ سکے گا۔ گنڈا پور نے اس سے پہلے بھی جو احتجاج کیے کسی نے ان کو دیکھا۔ وہ پاؤں میں پڑے ہوئے ہیں اور حکومت نا اہل ہے۔ حکومت کنٹینر لگا کر خود ان کے احتجاج کو کامیاب کرتی ہے۔ اب اسمبلیوں کو اس مداخلت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چائیے۔
نہ میں حکومت کا ترجمان ہوں، نہ کسی اور کا، آپ لوگوں نے مجھے بڑا کر دیا ہے، ’’را‘‘ کا بھی ترجمان بنا دیں تو میں اِسے لائٹلی لوں گا، میرا ریکارڈ کھڑا ہونے کا ہے، لیٹنے کا نہیں۔
دیکھنا ہوگا کہ 24 نومبر کی ہی کال کیوں دی گئی؟ خان صاحب پر چارج شیٹ 25 نومبر کو لگنے والی ہے اور انکے دوست اور ہمدرد فیض حمید کا فیصلہ بھی آنے والا ہے احتجاج کے پیچھے یہ کہانی ہے ۔ یہ 24 نومبر پکنک ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ہماری جیولوجیکل اہمیت کو سمجھے۔ ہمیں دشمن نہیں دوست سمجھ کر ہمارے ساتھ بات کریں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ نہ 24 کو رہائی ہورہی ہے نہ کچھ اور ہورہا ہے صرف فیس سیونگ ہو رہی ہے۔ عمران خان کو جیل میں ڈال کر سب مراعات لے رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں بھی لگا تو وہاں بھی ریڈ ہوگی۔ ٹھوک بجا کرہوگی۔ہوسکتا ہے کہ یہ 5 ہزار لوگ لے آئیں اور کورٹ آرڈر کرکے جگہ تبدیل کروادے۔