ویب ڈیسک: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ طے پانے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سخت تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔ ریاض میں ہونے والا یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی جہت دیتا ہے بلکہ بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا بھی ثابت ہو رہا ہے۔
بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بھارتی کالم نگار اور تجزیہ کار ڈاکٹر براہما چیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ نریندر مودی نے گزشتہ چند برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ مودی نے متعدد بار سعودی عرب کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و دفاعی روابط کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، تاہم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مودی کے یومِ پیدائش کے موقع پر ایک ایسا سرپرائز دیا جس کی توقع بھارت کو نہ تھی۔
Modi has spent years wooing Saudi Arabia, upgrading ties to a comprehensive strategic partnership and making repeated visits, including a key trip in April. Yet, on Modi's birthday, Crown Prince Salman delivered a nasty surprise: a Saudi–Pakistan mutual defense pact declaring…
— Dr. Brahma Chellaney (@Chellaney) September 18, 2025
چیلانی کے مطابق سعودی قیادت نے پاکستان کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ خطے میں اس کے اسٹریٹیجک تعلقات کی سمت پاکستان کے ساتھ زیادہ مضبوط ہو رہی ہے۔ معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا گیا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق نے بھارت کے لیے مزید تشویش پیدا کر دی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مودی حکومت خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
ریاض میں طے پانے والا یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں مشترکہ ردِعمل کے عزم کو مضبوط بنائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت جنوبی ایشیا کی سفارتی بساط پر نیا توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔