عمران خان کوذاتی حیثیت میں عدالت پیش کرنے کی درخواست خارج

عمران خان کوذاتی حیثیت میں عدالت پیش کرنے کی درخواست خارج
کیپشن: عمران خان کوذاتی حیثیت میں عدالت پیش کرنے کی درخواست خارج

ویب ڈیسک: سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں ذاتی حیثیت میں عدالت پیش کرنے کی درخواست خارج کردی گئی۔ 

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی۔

عمران خان کی ویڈیو لنک حاضری کے خلاف دائر درخواست پر استغاثہ نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے بتایا کہ جیل ٹرائل کو اے ٹی سی منتقل کرنا پنجاب حکومت کا ایگزیکٹو آرڈر ہے، ایگزیکٹو آرڈر پر نظرثانی عدالت کا اختیار ہے، 2016ء میں سی آر پی سی میں ترمیم کے تحت ملزم کی ویڈیو لنک پر پیشی کی منظوری دی گئی۔

اُنہوں نے بتایا کہ اے ٹی ایکٹ کے سیکشن21، 15 کے تحت عدالت کا اختیار ہے کہ وہ ٹرائل کا فیصلہ کرے۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مزید بتایا کہ حکومت ٹرائل کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی وجہ بتانے کی پابند نہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ویڈیو لنک پر حاضری کے خلاف درخواست ٹرائل میں رکاوٹ اور وقت ضائع کرنے جیسا ہے۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اکرام امین منہاس نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا وکلاء صفائی کا حق ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا ان کا حق ہے لیکن ٹرائل نہیں روکا جاسکتا۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک نے کہا کہ ہم عدالت سے فیئر ٹرائل کا تقاضا کرتے ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ فیئر ٹرائل کے لیے ملزم کی ذاتی حیثیت میں حاضری ضروری ہے، ہمیں صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کی کاپی کل ملی ہے، ہم اس کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے۔

عدالت نے وکلاء صفائی سے سوال کیا کہ کیا آپ اس درخواست پر مزید دلائل دینا چاہتے ہیں؟

جس پر وکلاء صفائی نے لیگل ٹیم سے مشاورت کے لیے آدھے گھنٹے کی مہلت مانگ لی، سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ دے دیا گیا، عمران خان کو تاحال ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ویڈیو لنک پر ہی پیش ہوں گے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے، پیمرا، پی آئی ڈی، انٹرنل سیکیورٹی اور وزارت داخلہ کے 10 گواہان طلب کرلیے۔

Watch Live Public News