(ویب ڈیسک ) عام صارفین دو ماہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں بجلی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔
دوسری جانب ڈسکوز ملک بھر کے 2 لاکھ 81 ہزار صارفین سے ایک سال گزرنے جانے کے باوجود ریکوری میں ناکام رہا۔بجلی بلوں کی عدم ریکوری سے خزانے کو ایک سال میں 185 ارب سے زائد کا نقصان ہوا۔
آڈٹ رپورٹ نے پاور سیکٹر میں اصلاحات اور ریکوری بہتر کرنے کے دعووں کی قلعی کھول دی ۔بجلی تقسیم کار کمپنیاں مجموعی طور پر نادہندگا ن سے 480 ارب روپے وصول کرنے میں ناکام رہیں۔
ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ریکوری نہ کرنے میں سکھر الیکٹرک کمپنی سب سے آگے ۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق سیپکو کے ایک لاکھ 64 ہزار صارفین نے 132 ارب روپے کے واجبات ادا نہیں کیے،حیدر آباد الیکٹرک کمپنی کے 76 ہزار 966 بجلی صارفین نے ایک سال سے بل ادا نہیں کیے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو صارفین سے ایک سال سے ریکوری نہ ہونے پر 15 ارب 87 کروڑ کا نقصان ہوا، پیسکو کے 8 ہزار 586 صارفین ایک سال سے نادہندہ ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیسکو صارفین سے عدم ریکوری سے قومی خزانے 95 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 6568 صارفین ایک سال سے نادہندہ ہیں ، 6ہزار 568 صارفین سے ریکوری نہ ہونے سے ایک ارب 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
ملک میں مجموعی طور پر نادہندگان کی تعداد 4 لاکھ 76 ہزار سے متجاوز ہو گئی۔
