ویب ڈیسک:عصرحاضر میں انسانوں کی مدد کے لئے مشینیں پیش پیش ہیں، سہولیات نے موجودہ دور کے انسان کو کاہل بنا دیا ہے اس لئے مشاہدہ میں دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر لوگ سیڑھیاں کی بجائے لفٹ یا ایلیویٹر استعمال کرتے ہیں اس کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سیڑھیاں چڑھتے ہی اکثر افراد کا سانس پھولنے لگتا ہے یا دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔
ماہر غذائیت رَمیتا کور کے مطابق یہ صرف موٹاپے یا کمزوری کی علامت نہیں بلکہ جسم کے اندر چھپی کسی پوشیدہ بیماری کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے، اُن کا خیال ہے کہ کچھ ایسی علامات ہیں جو سانس پھولنے کا باعث بنتی ہیں۔
خون میں آئرن یا ہیموگلوبن کی کمی: خون میں موجود ایک پروٹین ہے جو آکسیجن کو پھیپھڑوں سے پورے جسم تک لے جاتی ہے، جب جسم میں آئرن کم ہو جائے تو ہیموگلوبن بھی کم بن پاتا ہے اور خون جسم کے خلیوں کو کافی آکسیجن نہیں پہنچا پات اور جسم جلد تھک جاتا ہے۔
کمزور پھیپھڑے یا غلط طریقے سے سانس لینا: جس کی وجہ سے آکسیجن جذب ہونے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔
وٹامن ڈی اور بی 12 کی کمی: یہ وٹامنز جسم کو توانائی اور قوتِ مدافعت فراہم کرتے ہیں، ان کی کمی کمزوری اور تھکن کا باعث بنتی ہے۔
جسم میں ٹاکسن کا جمع ہونا: یہ میٹابولزم کو سست کر کے اسٹیمینا کم کر دیتے ہیں جبکہ جسمانی فِٹنس کم ہونے کی وجہ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے۔
ماہر غذائیت کا کہنا تھا کہ ان سے بچاؤ کا طریقہ ممکن ہے مگر تھوڑی محنت کرنے کی ضرورت ہے،دن کی شروعات آملہ اور چقندر کے جوس سے کریں جو ہیموگلوبن بڑھا کر جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔
سانس کی ورزش
کم از کم پانچ منٹ تک سانس کی ورزش کریں تاکہ پھیپھڑوں کی صحت بہتر ہو اور سانس کی گنجائش بڑھے۔
بھگوئے ہوئے کشمش اور کڑی پتے کھائیں
یہ آئرن کا قدرتی خزانہ ہیں اور جسمانی کمزوری و تھکن دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
سیڑھیاں چڑھنے کی عادت ڈالیں
روزانہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھیں، تھوڑا آرام کریں اور یہ عمل دو سے تین بار دہرائیں۔ اس سے اسٹیمینا بڑھے گا اور جسم فِٹ ہوگا۔
کھانے کبھی نہ چھوڑیں
بہت سے لوگ وزن کم کرنے کی کوشش میں کھانے چھوڑ دیتے ہیں جس سے جسم کمزور پڑ جاتا ہے۔ ہمیشہ وقت پر اور متوازن غذا لیں۔