بھارت پر امریکی شہری کے قتل کی قیمت لگانے کا معاملہ، SFJ  کی  نائب امریکی صدر سے مداخلت کی اپیل

بھارت پر امریکی شہری کے قتل کی قیمت لگانے کا معاملہ، SFJ  کی  نائب امریکی صدر سے مداخلت کی اپیل

(ویب ڈیسک ) سکھس فار جسٹس ( ایس ایف جے) نے بھارتی حکومت پر امریکی شہری کے قتل  کی قیمت  لگانے  کا الزام عائد کیا ہے اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

امریکا میں قائم سکھ تنظیم " سکھس فار جسٹس" (SFJ) نے ایک چونکا دینے والا الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سینیئر رہنما نے ایک امریکی شہری کے قتل پر ڈھائی لاکھ ڈالر (تقریباً 2.5 لاکھ) کا انعام رکھا ہے۔

ایس ایف جے کے مطابق، یہ انعام ان کے رہنما اور مشہور انسانی حقوق کے وکیل گرپتونت سنگھ پنن کے قتل کے لیے رکھا گیا ہے۔ تنظیم نے اس عمل کو امریکی خودمختاری پر حملہ اور ایک خطرناک بین الاقوامی سازش قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ  یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس 21 اپریل کو بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں۔

 اس موقع پر ایس ایف جے نے ایک خط میں نائب صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کو واضح پیغام دیں کہ امریکا اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی حکومت کی ایسی سرگرمیوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

خط میں کہا گیا ہے  کہ یہ واقعہ صرف ایک شخص کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا نہیں، بلکہ یہ امریکا کی قومی سلامتی اور جمہوری اقدار کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔ خط میں نائب صدر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ  اس عمل کو ریاستی سطح پر تشدد اور بین الاقوامی جبر (Transnational Repression) قرار دیں ۔ بھارت کے خلاف ممکنہ پابندیوں اور قانونی کارروائی کی وارننگ دیں  اور  ذمہ دار افراد اور اداروں کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے  ۔

سکھس فار جسٹس ( ایس ایف جے ) کا کہنا ہے کہ  وہ خالصتان ریفرنڈم کے حامی ہیں اور پرامن طریقے سے سکھوں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں کو جمہوری آزادی حاصل ہونی چاہیے، اور ایسے واقعات ان کی جان و مال کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

Watch Live Public News