ویب ڈیسک: انتخابی فہرستوں پر اٹھتے سوال دبانے کی کوشش پر اپوزیشن جماعتوں کا الیکشن کمیشن کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
ٹیلی گراف انڈیا کے مطابق دہلی کانسٹی ٹیوشن کلب میں متحدہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر الزامات دہرائے گئے۔
متحدہ اپوزیشن نے الیکشن کمیشن پر جانبداری، ووٹ چوری اور احتساب سے بچنے کا الزام عائد کر دیا۔ کانگریس اور سی پی ایم نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے حق میں جانب دار ہے۔
بہار میں خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ میں شفافیت نہ ہونے پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی۔
ترنمول کانگریس رہنما مہوا موئترہ نے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی ووٹر لسٹیں بنانا سنگین جرم ہے، سابق الیکشن کمشنرز کے خلاف کارروائی اور لوک سبھا تحلیل کی جائے۔ ترنمول کانگریس ایم پی ابھشیک بینرجی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جعلی ووٹر لسٹوں پر انتخابات کرائے اور اپوزیشن کے کسی ایک سوال کا جواب نہیں دیا۔ اگر الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ درست نہیں مانتا، تو کابینہ مستعفی اور نظر ثانی کے بعد نئے انتخابات کرائے جائیں۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بہار میں 'ووٹ ادھیکار یاترا' کے دوران کہا کہ غریب عوام کا حق چھینا گیا، یہ لڑائی عوام کے بنیادی حق اور ووٹ چوری کے خاتمے کے لیے لڑی جائے گی۔
کانگریس رہنما گورَو گوگوئی نے کہا کہ کئی ریاستوں میں ووٹر فہرستوں کی بے ضابطگیاں نظر انداز، پولنگ بوتھ کی ویڈیوز حذف کر دی گئیں ہیں۔ الیکشن کمیشن اپوزیشن کے اٹھائے گئے سوالوں اور اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے۔
سی پی ایم کے ایم پی جان برٹاس نے الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی "بی ٹیم"قرار دیا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے رہنما رام گوپال یادو نے کہا کہ 2022 کے انتخابات میں 18 ہزار سے زائد ووٹرز کے نام لسٹ سے نکالے گئے۔
تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ ووٹر فہرستوں میں شفافیت نہیں اور آج بھی مردہ افراد کے نام درج ہیں۔