ویب ڈیسک: وفاقی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم عمران خان کی رہائی ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگی۔
نجی ٹی وی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ انہیں مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت اور دیگر قیادت سے رابطہ کیا ہے اور یہ بات کر رہے ہیں کہ مذاکرات بحال کیے جائیں۔ اپوزیشن بھی اس بات پر متفق ہے کہ قیادت کی سزاؤں اور نااہلیوں کے بعد کوئی راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ مذاکرات پی ٹی آئی کی کمیٹی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹی کے درمیان ہوں گے۔ تاہم ان مذاکرات میں عمران خان کی رہائی زیر بحث نہیں ہوگی کیونکہ یہ حکومت کے اختیار میں نہیں۔
وزیر مملکت نے واضح کیاکہ ہم انہیں درجنوں بار کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں کا راستہ اختیار کریں اور وہاں اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ عمران خان کی رہائی صرف عدالتوں سے ہی ممکن ہے، حکومت اس سلسلے میں کوئی ریلیف نہیں دے سکتی۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر پی ٹی آئی قیادت سیاسی مسائل یا سیاسی گنجائش کے حوالے سے بات کرنا چاہتی ہے تو حکومت اس کے لیے تیار ہے۔ تاہم اگر 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ ہے تو اس پر انہیں قائل کرنا ہوگا کیونکہ کئی مقدمات کے پہلے ہی فیصلے ہو چکے ہیں۔ اگر ان کے پاس مضبوط دلائل ہیں تو وہ اجلاس میں پیش کریں۔