ویب ڈیسک: کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنا دیا ، شہر قائد میں 30 گھنٹوں سے زائد بند فیڈرز کی بحالی کے لیے نیپرا سے مزید وقت مانگا تھا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق کے-الیکٹرک نے نیپرا کے نمائندے آج رات ساڑھے 9 بجے تک تمام فیڈرز بحال کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، نیپرا کو دی گئی ڈیڈ لائن کا وقت بھی گزر گیا شہر کا بیشتر حصہ بجلی سے محروم ہے، طویل بجلی بندش سے عوام کے الیکٹرک کے شکایتی مراکز پر دھرنا دے بیٹھی۔
ممبر نیپرا رفیق احمد شیخ نے کے الیکٹرک کو مزید وقت بھی دے دیا تھا، نیپرا ممبر کو طفل تسلی دے کر کے الیکٹرک انتظامیہ نے روانہ کر دیا تھا، کے الیکٹرک شہر قائد کے اکثر علاقوں میں 36 گھنٹوں کے بعد بھی بجلی بحال نہ ہوسکی ، شہر میں دوبارہ بارش کے بعد متعدد فیڈرز ایک بار پھر بند ہوگئے۔
بارش کے باعث کے الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام درھم برھم ہو گیا، ڈیفنس سمیت شہر کے بیشتر علاقوں میں شہری دوسری رات بھی بغیر بجلی کے گزارا کرنے پر مجبور ہیں، کے الیکٹرک کے آج بھی بھی تھوڑی سی بارش کے بعد 415 سے زائد فیڈرز ٹرپ کرگئے۔
گلشن اقبال بلاک 5,ڈی ایچ اے,سرجانی ٹاون, ،نارتھ ناظم اورنگ کورنگی,آباد بلاک ڈی،بلاک اے ۔ گلستان جوہر ,ناظم اباد،شادمان ٹاون,ایم اے جناح روڈ ۔کراچی: اولڈ سٹی ایریا ,معین آباد,حسرت موہانی کالونی پہاڑ گنج, بنارس،بلدیہ سمیت متعدد علاقوں میں بجلی کی بندش کو 36 گھنٹے سے زاید کا وقت گزر گیا۔
کے الیکٹرک کی آپریشنل ٹیمیں فالٹ دور کرنے میں ناکام ، فیلڈ اسٹاف کی اکثریت کے الیکٹرک کے بوسیدہ نظام۔کو بحال کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی۔
کے الیکٹرک کا عملہ لوگوں بجلی کی بندش ختم کرنے کے بجائے شہریوں سے الجھنے لگے، گزشتہ روز کے الیکٹرک کے ریکارڈ 900 سے زاید فیڈرز بند ہوئے تھے ، گزشتہ روز 2100 فیڈرز سے 900 فیڈرز بند ہونے سے تقریبا آدھے شہر کی بجلی بند رہی۔