امریکا چین کو ہرانا چاہتاہے ، پاکستان ٹرمپ کی ترجیح نہیں ، ملیحہ لودھی

us loose interest in pak. madiha lodhi
کیپشن: us loose interest in pak. madiha lodhi
سورس: google

ویب ڈیسک :   امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا ہے امریکا چین کو ہرانا چاہتا ہے ۔۔ پاکستان نہیں بھارت ٹرمپ کی ترجیح  ہے۔ 

گذشتہ چارسالوں سے اسلام آباد واشنگٹن تعلقات سرد مہری کا شکار

امریکا اور اقوامِ متحدہ میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سرانجام دینے والی ملیحہ لودھی نے بی بی سی اُردو سے  گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل نہیں ہو گا امریکا اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد امریکی انتظامیہ کی ناصرف پاکستان بلکہ اس خطے میں ہی دلچسپی کم ہوئی ہے۔

ملیحہ لودھی  کے مطابق افغانستان سے امریکا کے انخلا کے بعد واشنگٹن کی نگاہ میں پاکستان کی اہمیت کم ہوئی ہے اور گذشتہ چار برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر کوئی روابط نہیں رہے۔

اسی طرح دی بروکنگز انسٹٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر مدیحہ افضل کہتی ہیں کہ امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات افغانستان میں جنگ کے اختتام اور وہاں طالبان کی آمد کے بعد ترجیحات میں شامل نہیں، اور یہی پالیسی آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے بھی جاری رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد سے ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی اور ترجیحات کے بارے میں کُھل کر بات کرتے آئے ہیں لیکن اس دوران انھوں نے کہیں بھی پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات امریکا کے لیے ترجیح نہیں ہیں۔

امریکا چین پر قابو پانا چاہتاہے اور پاکستان چین مخالف نہیں بنے گا

ملیحہ لودھی  کا مزید کہنا ہے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات محدود ہونے کا ایک سبب واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتے ہوئے سٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات بھی ہیں۔ امریکا نے انڈیا کا انتخاب (اس خطے میں) چین کے مقابل کے طور پر کیا ہے۔   امریکا کے لیے سٹریٹجک ترجیح چین پر قابو پانا ہے اور کیونکہ پاکستان کسی بھی چین مخالف اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتا اسی سبب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے امکانات کم رہ جاتے ہیں۔

پاکستان چین کو اپنا قریب ترین اتحادی سمجھتا ہے اور ملک میں سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) کے تحت اربوں ڈالر کے چینی منصوبے اس شراکت داری کا ثبوت ہیں۔

نئی ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھے گی

 اسی طرح امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے منسلک ڈسٹنگوئشڈ فیلو رابرٹ میننگ  نے قراردیا ہے کہ چین سے قریبی تعلقات اور پاکستان پر چین کے انحصار کے سبب نئی امریکی انتظامیہ میں قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور سیکریٹری خارجہ مارک روبیو جیسی چین مخالف شخصیات پاکستان کو شک کی نگاہ سے ہی دیکھیں گی۔

 ایسا بھی ممکن ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان مقابلے کی بنیاد پر نئی امریکی حکومت پاکستان کے حوالے سے سخت مؤقف اپنائے کیونکہ یہ بات تو یقینی ہے کہ پاکستان امریکا کے لیے کوئی ایسا اقدام تو نہیں اٹھائے گا جس سے اس کے چین کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہو اور اس سب کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت پر فرق پڑے۔

اب امریکا کو پاکستان کی مدد درکار نہیں 

یونیورسٹی آف البانی سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر منسلک کرسٹوفر کلیری  کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا انحصار افغانستان کے حالات اور خطے میں انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیوں پر رہا ہے لیکن سمجھتے ہیں کہ اب ان دونوں ہی معاملات میں امریکہ کو پاکستان کی مدد کی ضرورت نہیں۔

 انہوں نے کہ ان تعلقات میں تبدیلی اس وقت ضرور ممکن ہے اگر پاکستان یا افغانستان میں دہشتگردی کے خطرات سے متعلق صورتحال اور امریکی پالیسی میں تبدیلی آ جائے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ایسے ہی معمولی نوعیت کے ہی رہیں گے جب تک اسلام آباد کچھ ایسے معاملات کا اشارہ نہ دے جس میں واشنگٹن کو اس کی مدد کی ضرورت ہو۔

Watch Live Public News