اسرائیلی خواتین قیدی رہا، دوسری کھیپ ہفتے کو آزاد ہوگی، حماس

اسرائیلی خواتین قیدی رہا، دوسری کھیپ ہفتے کو آزاد ہوگی، حماس

  ویب ڈیسک : فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے تصدیق کی ہے کہ رہائی پانے والی تین خواتین قیدی 24 سالہ رومی گونن، 28 سالہ ایملی دماری اور ڈورون 31 سالہ شتنبر خیر ہیں۔ یرغمال بنائی گئی اسرائیلی خواتین کی دوسری کھیپ کی رہائی آئندہ ہفتے کے روز ہو گی۔

 میڈیا نے  حماس کے ایک رہنما کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں قید خواتین قیدیوں کی دوسری کھیپ کی رہائی ہفتے کی شام کو ہو گی۔ خواتین قیدیوں کی پہلی کھیپ کل اتوار کو غزہ میں جنگ بندی کے پہلے دن ہوئی تھی۔ یہ اسرائیلی خواتین تل ابیب میں اپنے خاندانوں کے پاس پہنچ گئی ہیں جہاں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

مذاکرات میں شریک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر وضاحت کی کہ اسرائیلی قیدیوں کی دوسری کھیپ کی رہائی اگلے ہفتے کی شام جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز کے ساتویں دن ہو گی۔

خواتین قیدی اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقے میں قید تھیں

اس تناظر میں خبروں میں اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حلقے اس خبر کے گردش کرنے کے بعد صدمے میں ہیں کہ حماس نے ’’ نٹزاریم کوریڈور‘‘ کے شمالی علاقے میں خواتین قیدیوں کو حراست میں رکھا تھا۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں ایک سال سے زیادہ عرصے سے اسرائیل کا کنٹرول تھا۔

اسرائیل نے ’’ نٹزاریم محور‘‘ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ وہاں فوجی مقام بنایا ۔ اسے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے ایک فوجی زون کے طور پر استعمال کیا تھا۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کی ٹیموں نے حماس سے تین مغوی خواتین کو "نیٹزاریم" کے محور میں حاصل کیا تاکہ انہیں اسرائیلی فوج کے حوالے کیا جائے۔ تینوں خواتین کے کے اہل خانہ کبوتز "رعیم" کے اندر ڈیلیوری ایریا میں ان کی آمد کے منتظر تھے۔

قید میں رہنے کے سرٹیفیکیٹ سمیت ’’ گفٹ بیگ’’

ویڈیو میں تینوں خواتین مسکراتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں، حماس کے کارکنوں نے ہر یرغمالی کو ایک، ایک تحفے کا بیگ پیش کیا۔

تینوں یرغمالی خواتین کے چہروں پر خوشی نمایاں تھی اور وہ بے خوف نظر آئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس نے قید کے دوران اُن سے بہت اچھا سلوک روا رکھا۔

 تینوں خواتین نے مسکراتے ہوئے بخوشی تحائف کے بیگز وصول کیے۔ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ان بیگز میں خواتین کی رہائی کا سرٹفکیٹ موجود تھا، ہر سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے گئے تھے اور " رہائی کا فیصلہ" لکھا ہوا تھا۔ اسرائیلی آؤٹ لیٹ Ynet کے مطابق بیگ میں یرغمالیوں کی قید کے دوران کی تصاویر اور غزہ کی پٹی کا نقشہ بھی شامل تھا۔

یرغمالی زندہ چاہئیں یا مردہ فیصلہ اسرائیل کا ہے، القسام بریگیڈز

دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی وابستگی کا اعلان کیا۔ تاہم اس نےکہا کہ اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں خطرناک ہیں۔ القسام اس وقت تک جنگ بندی پر قائم ہے جب تک اسرائیلی فوج اس پر قائم ہے۔یرغمالی زندہ چاہئیں یا مردہ فیصلہ اسرائیل کا ہے۔ القسام بریگیڈز نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ اسرائیلی خلاف ورزی سے آپریشن اور قیدیوں کی زندگیوں کو خطرہ ہو گا۔

اسرائیل کی تمام جیلوں سے فلسطینی قیدی عوفر جیل منتقل

العربیہ  کے مطابق  اسرائیل کی طرف سے رہا کئے جانیوالے تمام فلسطینی قیدیوں کو دیگر جیلوں سے  عوفر جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ یہ قیدی غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیے جائیں گے۔

لسطینی قومی آزادی کی تحریک "فتح" نے ان فلسطینی مرد اور خواتین قیدیوں کے نام شائع کیے جنہیں حماس اور اسرائیلی فریق کے درمیان ہونے والے تبادلے کے معاہدے کے مطابق رہا کیا جائے گا۔ اسرائیلی میڈیا  کے مطابق  غزہ میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کی ٹیم حماس کی طرف سے غزہ میں زیر حراست اسرائیلی خواتین یرغمالیوں کے استقبال کے لیے گئی ہے۔

متحدہ عرب امارت کا غزہ کیلئے 20 ٹرکوں پرمشتمل امدادی قافلہ روانہ

متحدہ عرب امارات نے فائر بندی کے معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی کی آبادی کے لیے امدادی قافلہ روانہ کر دیا۔ یہ قافلہ 20 ٹرکوں پر مشتمل ہے جن پر 200 ٹن سے زیادہ امدادی سامان موجود ہے۔ ان میں اشیاء، موسم سرما کے کپڑے اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات شامل ہیں۔

اماراتی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ قافلہ غزہ کی پٹی میں درپیش مشکل انسانی صورت حال کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کو فوری سہارا فراہم کرے گا۔ یہ غزہ میں امارات کا امدادی آپریشن "الفارس الشہم 3" شروع ہونے کے بعد اپنی نوعیت کا سب سے بڑا امدادی حجم ہے۔

Watch Live Public News