ویب ڈیسک: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار افراد اور رجسٹرڈ کاروباری افراد کو ریلیف فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے جائیں گے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا کہ حکومت توانائی کے نرخوں میں کمی اور ٹیکس ریٹس کو مؤثر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار افراد اور دستاویزی معیشت کا حصہ بننے والے کاروباروں کے لیے ہدفی ریلیف پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق رواں مالی سال میں جی ڈی پی میں 4 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جو اگلے سال 5 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، اور حکومت پائیدار معاشی پالیسی کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی جائزے کی تیاری کر رہی ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ 24 سرکاری اداروں کو نجکاری کے عمل میں لایا جائے گا جو قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے افراط زر میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی شرح 5 فیصد تک آ چکی ہے۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں وفاق نے 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11.3 فیصد رہی، جبکہ عالمی معیار کے مطابق یہ شرح تقریباً 18 فیصد ہونی چاہیے۔