ویب ڈیسک: ایران نے کہا ہے کہ جاری کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان ثالث ممالک کے ذریعے سفارتی رابطے اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو ثالثوں کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ان کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران مختلف ثالث ممالک نے دونوں فریقوں کے درمیان تجاویز اور پیغامات پہنچائے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خطے کے ممالک سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم وہ توقع رکھتا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران پر حملے جاری رہیں گے، ایرانی مسلح افواج بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا جنوبی ایران میں واقع خارگ جزیرے پر قبضے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی امریکی زمینی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے عبوری معاہدے کے حوالے سے بھی کہا کہ معاہدے کا متن واضح اور مختصر ہے، جس میں 14 شقیں شامل ہیں، اور امریکا کے پاس اس کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق معاملات ایران، عمان اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مشاورت کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔