ویب ڈیسک : ایران میں اسلامی اقدار پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے والی اخلاقی پولیس " گشت ارشاد" کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے "عصمت و حجاب" کے قانون میں ترمیم کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ نئے قانون میں " گشت ارشاد" یعنی اخلاقی پولیس کو مکمل طور پر منسوخ کرنا مذکور ہے۔
قالیباف نے منگل کی شام ایک پیغام میں واضح کیا کہ مذکورہ ترامیم کا مقصد حجاب کے معاملے کے ساتھ نمٹنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لانا اور اس حوالے سے عمومی موافقت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ بات مقامی میڈیا نے بتائی۔
ایران میں حجاب کا قانون متنازع امور میں شمار کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس کے نفاذ کا طریقہ کار بدلنے کے لیے کئی تجاویز پیش کی گئیں۔
تاہم اس کے باوجود حکام کی جانب سے حجاب کی پاسداری کی ضرورت باور کرائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ لازمی حجاب کا معاملہ اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار نے ملک میں عوامی احتجاج کی شدید لہر کو جنم دیا تھا۔ یہ احتجاج 2022 میں تہران میں اخلاقی پولیس کی حراست میں موجود نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سامنے آئے تھے۔
مہسا کو تہران میں گھومنے پھرنے کے دوران میں اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔