پاکستان میں دہشتگردی اور پولیس اہلکاروں کے اغواء پر امریکا کا اظہار تشویش

پاکستان میں دہشتگردی اور پولیس اہلکاروں کے اغواء پر امریکا کا اظہار تشویش
کیپشن: پاکستان میں دہشتگردی اور پولیس اہلکاروں کے اغواء پر امریکا کا اظہار تشویش

ویب ڈیسک: امریکا نے پاکستان میں دہشت گردی اور پولیس اہلکاروں کے اغوا پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے باعث بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔

میتھو ملر نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والے خاندانوں سے ہمدردی ہے، ہمارے دل کوئٹہ میں 9 نومبر کے دھماکے کے متاثرین کے ساتھ ہیں، پاکستانی عوام کے خلاف دہشت گردوں کے خوفناک حملے جاری ہیں۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی روکنے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے پُرعزم ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سویلین اور فوجی صلاحیت بڑھانے کے لیے مشاورت جاری ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

میتھو ملر کا کہنا تھا کہ امریکا میں سکھ شہریوں کو درپیش خطرات پر بھارت سے جواب لیا جا رہا ہے۔

واضح رہے 9 نومبر کو کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے میں 28 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

جعفر ایکسپریس نے 9 بجے پشاور کے لیے روانہ ہونا تھا، ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی کہ دھماکا ہو گیا، دھماکا ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا، جس کے بعد دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کےخلاف سی ٹی ڈی تھانے میں درج کرلیا گیا۔

آٹھ دس کلو بارودی مواد کا بیگ اٹھائے خودکش حملہ آور نے جعفر ایکسپریس کا انتظار کرتے مسافروں کے درمیان پہنچ کر خود کو دھماکے سے اُڑالیا تھا۔

خیال رہے کہ 18 نومبر کو بنوں میں مسلح افراد نے 7 پولیس اہلکاروں کو احمد زئی سب ڈویژن میں پولیس چوکی سے اغوا کرلیا تھا۔

پولیس کے مطابق مسلح گروہ نے سب ڈویژن وزیر کے پہاڑی علاقے روچہ چیک پوسٹ کا گھیراؤ کیا اور تمام اسلحہ و سامان بھی ساتھ لے گئے۔

جس کے بعد گزشتہ روز بنوں سے اغوا ہونے والے 7 اہلکاروں کے معاملے پر علاقہ عمائدین پر مشتمل جرگے کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے اور ساتوں اہلکاروں کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ مغویوں کی بازیابی پولیس اور جرگہ کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔

Watch Live Public News