پی ٹی آئی احتجاج:جڑواں شہروں میں کمیٹیاں تشکیل،مانیٹرنگ سیل قائم

پی ٹی آئی احتجاج:جڑواں شہروں میں کمیٹیاں تشکیل،مانیٹرنگ سیل قائم
کیپشن: پی ٹی آئی احتجاج:جڑواں شہروں میں کمیٹیاں تشکیل،مانیٹرنگ سیل قائم

ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر 24 نومبر کے احتجاج کے لیے جڑواں شہروں میں 2 کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں جبکہ رات گئے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں اہم بیٹھک لگی، جس میں احتجاج کی حکمت عملی اور متوقع مذاکرات پر صلاح مشورے کیے گئے، دوسری جانب پی ٹی آئی احتجاجی تحریک کے لیے مانیٹرنگ سیل قائم کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے جڑواں شہروں میں 2 کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔

جڑواں شہروں کے لیے 12 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں اسلام آباد اور راولپںڈی سے 6، 6 پی ٹی آئی رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی فردوس شمیم نے کمیٹی میں شامل ناموں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

اسلام آباد میں احتجاج کو عامر مغل، شعیب شاہین ،علی بخاری، شیر افضل مروت، قاضی تنویر اور ملک عامر لیڈ کریں گے۔

راولپنڈی کے لیے چوہدری عامر افضل، عاقل خان، راجہ بشارت، سیمابیہ طاہر، شہریار ریاض اور کرنل ریٹائرڈ اجمل صابر کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنماوں کی خیبر پختونخوا ہاؤس میں بیٹھک

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے 24 نومبر کے احتجاج کی کال کے معاملے پر رات گئے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں اہم بیٹھک لگی، جس میں احتجاج کی حکمت عملی اور متوقع مذاکرات پر صلاح مشورے کیے گئے۔

بیرسٹر گوہر کی وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور سے ملاقات ہوئی جس میں احتجاج کی حکمت عملی اور متوقع مذاکرات پر مشورے کیے گئے۔ملاقات کے دوران 24 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا، احتجاج اور مذاکرات دونوں آپشنز ایک ساتھ زیر غور ہیں۔

چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق باہمی مشاورت کررہے ہیں، صبح عمران خان سے بھی ملاقات ہوئی تھی، مذاکرات کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

پی ٹی آئی احتجاجی تحریک کے لیے مانیٹرنگ سیل قائم

ذرائع کے مطابق احتجاج میں کون کتنے بندے لایا، سب پتا چلے گا، احتجاجی مظاہرے میں کون منزل تک پہنچا یا راستے سے غائب ہوگیا، اب سب مانیٹر ہوگا۔مانیٹرنگ سیل نے کارکنوں کی لسٹ تیار کرنے پر کام شروع کردیا، سینٹرل ڈسٹرکٹس میں مرد اور خواتین کی الگ الگ ٹمیں بنائی گئی ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ہر ممبر صوبائی اسمبلی اور ایم این اے کو مانیٹر کیا جائے گا، مانیٹرنگ ٹیموں کو خفیہ رکھا جائے گا، مانیٹرنگ سیل خیبرپختونخوا میں کے قافلوں کو لیڈ کرنے والے رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہوگا، مانیٹرنگ سیل ریسکیو1122 ہیڈکوارٹر میں کام کرے گا۔

Watch Live Public News