ویب ڈیسک: تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کیلئےوفاقی حکومت نے کمرکس لی۔ اسلام آباد میں 22نومبرسےرینجرز تعینات جبکہ ایف سی اہلکاروں کی مزید نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ احتجاج میں شرکت پر طلباء کی تعلیمی اسناد اور داخلے منسوخ کرنے پر غور شروع ہوگیا ہے،پاسپورٹ،شناختی کارڈ منسوخ اور سم بلاک کی جائے گی،اسلام آبادسمیت دیگرشہروں میں افغان مہاجرکیمپوں کی جیوفینسنگ،اسلام آبادانتظامیہ نے وفاقی دارلحکومت میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 2ماہ کی توسیع کر رکھی ہے۔جلسے،جلوس اور ریلی پرپابندی ہے۔
ادھر پی ٹی آئی کے 24 نومبر احتجاج کے پیش نظر وفاقی پولیس اہلکاروں و افسران کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔
چھٹی پر گئے اہلکاروں کو واپس بلا لیا گیا ہے، تمام ایس ایچ اوز کو نفری فراہمی کی لسٹیں بھی مرتب کر لی گئیں۔ ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق ایف سی اور دیگر صوبوں کی نفری بھی 21 نومبر کو اسلام آباد پہنچ جائے گی۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے 24 نومبرکو احتجاج کے پیش نظر وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر انداز سے ہینڈل کرنے کے لیے اسلام آباد میں رینجرز اور اضافی ایف سی تعینات کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے رینجرز اور ایف سی کے 9 ہزار اہلکاروں کی خدمات طلب کر لیں۔ اسلا آباد پولیس نے پاک رینجرز کے 5 ہزار اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 4 ہزار اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کی درخواست کی ہے۔آئی جی اسلام آباد پولیس نے خط لکھ کر رینجرز اور اضافی ایف سی کی تعیناتی کی سفارش کی۔