اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا 27 ویں ترمیم سپریم کورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا 27 ویں ترمیم سپریم کورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ

(ویب ڈیسک ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے 27ویں ترمیم سپریم کورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز  نے 27ویں آئینی ترمیم چیلنج کرنے کا فیصلہ  کیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چار ججز کی جانب سے درخواست تیار کرکے سپریم کورٹ بھجوا دی گئی۔
سپریم کورٹ عملے نے درخواست موصول کرنے سے انکار  کردیا۔ سپریم کورٹ عملے نے موقف اختیار کیا کہ  آئینی درخواست دائر کرنے کا فورم اب وفاقی آئینی عدالت ہے۔

درخواست دائر کرنے والوں میں جسٹس محسن کیانی،جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت شامل ہیں۔

درخواست میں وفاق اور وفاقی آئینی عدالت کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 27ویں ترمیم کے متعدد سیکشنز آئین کے آرٹیکلز 9 اور 25 کے خلاف قرار دیے جائیں،26ویں اور 27ویں ترامیم کو عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کے تقسیم کے اصول کیخلاف قرار دیا جائے،قرار دیا جائے کہ پارلیمان آرٹیکلز 238 اور 239 کے تحت آئین کی بنیادی ساخت میں تبدیلی کا اختیار نہیں رکھتی،جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کی ازسرنو تشکیل عدالتی دائرہ اختیار کیخلاف قرار دی جائے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم کا سیکشن 41، جو ججوں کی سروس ٹرمز کو متاثر کرتا ہے، ترمیم کو سپریم کورٹ کے الجہاد ٹرسٹ فیصلے کی روشنی میں عدلیہ کی آزادی کے خلاف قرار دیا جائے، ججز ٹرانسفر کیلئے آرٹیکل 200 میں جج کی رضامندی کو ختم کرنا عدالتی آزادی سے متصادم ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جج کے انکار پر آرٹیکل 209 کی کارروائی کا امکان پیدا کرنا عدالتی آزادی پر حملہ قرار دیا جائے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کی الگ حیثیت کو بھی عدالتی آزادی کے منافی قرار دیا جائے،27ویں ترمیم کے تحت حکومتی یا کسی بااختیار فرد کے تمام اقدامات کالعدم قرار دیے جائیں،ازسرنو تشکیل شدہ جوڈیشل کمیشن کو کسی جج کی تقرری یا تبادلے کے احکامات جاری کرنے سے روکا جائے،ازسرنو تشکیل شدہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کسی بھی آئینی عدالت کے جج کے خلاف کارروائی سے روکا جائے۔

Watch Live Public News