سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی درخواستوں پر سماعت، وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیئے

سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی درخواستوں پر سماعت، وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیئے
کیپشن: سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی درخواستوں پر سماعت، وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیئے

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی درخواستوں پر سماعت شروع ہوگئی۔ وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیئے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اکرم شیخ نے دلائل کے آغاز پر شعر پڑھ کر سنایا۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے وکیل لطیف کھوسہ ہیں نا ، جس پر اکرم شیخ نے کہا نہیں وہ میرے وکیل نہیں ہیں ، ڈاکومنٹس میں وہ میرے دستخط نہیں ہیں۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے آپ سے پوچھے بغیر پٹیشن دائر کی ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے میری اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا میں نے خود دائر کی ہے۔ ایک سال اس کیس کی باری آئی ہے مجھے ایک ، ڈیڑھ گھنٹہ دے دیں۔

جس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ اگر پندرہ بیس منٹ میں آئینی بات کریں تو آسان ہو جائے گا ، ایک صاحب نے تو یہاں کہا ہے کہ آئین کو ایک سائڈ پر رکھ دیں۔ ہم اپنے حلف کے پابند ہیں، ہم سب قوم کو جوابدہ ہیں۔ ہم آئین کے ماتحت ہے اور انکی گائیڈنس چاہیے۔

جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ آپ کی رائے میں فل کورٹ کیا ہے۔ ایک نے کہا تمام ججز فل کورٹ ہیں اور ایک ممبر نے کہا کہ 16 ججز فل کورٹ ہیں۔ جس کے جواب میں وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ یہ آئینی بینچ اس کیس کو نہیں سن سکتا ، میں التجا کروں گا کہ تمام 24 ججز اس کیس کو سنیں۔

جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ سوال ہے کہ جو آئینی بینچ میں شامل نہیں ہے وہ کیسے بیٹھ سکتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ بے شک چوبیس ججز بیٹھیں مگر ان کو آئینی بینچ نہ کہا جائے۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اس آئینی بینچ کے ججز کے پاس اس وقت دو عہدے ہیں، ایک عہدہ متنازع ہے، دوسرا نہیں۔ امید ہے کہ اللہ آپ کو اس ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی ہمت دے۔

جس پر جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے کہ اس کیلئے ہمیں سب سے پہلے بینچ کا فیصلہ کرنا ہوگا، جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ یہ 8 رکنی بینچ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اہل نہیں ہے، کیونکہ یہ بینچ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت ہی بیٹھا ہے۔ میں یزید کی بیت نہیں کرسکتا۔

جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ آپ مذہبی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ کے پاس کوئی آئینی دلائل نہیں۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ پرنسپل ہے کہ ایک لارجر بینچ کا فیصلہ ایک چھوٹا بینچ کالعدم قرار نہیں دے سکتا، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ اب معاملہ نیا ہے، آئینی بینچ بن چکا ہے، آپ نئے حالات کے مطابق دلائل دیں۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ آئینی بینچ 26ویں ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا کیونکہ مفادات کا ٹکراو ہوگا۔ دوسری جانب آپ کہتے ہیں 24 کے 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ بنایا جائے۔ کیا 24 کے 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ میں مفادات کا ٹکراو نہیں ہوگا؟

Watch Live Public News