ویب ڈیسک: بنگلہ دیش نے بھارت کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ بھارتی سرزمین پر کوئی بھی بنگلہ دیشی شہری ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے اپنے باضابطہ بیان میں بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کالعدم جماعت بنگلہ دیش عوامی لیگ کے تمام دفاتر کو فی الفور بند کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت میں موجود اس جماعت کے کئی سینیئر رہنما بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات میں مفرور ہیں اور وہاں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 21 جولائی 2025 کو عوامی لیگ کے رہنماؤں نے ایک غیر سرکاری تنظیم کے نام پر دہلی پریس کلب میں عوامی رابطہ مہم چلائی اور صحافیوں میں کتابچے تقسیم کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
Activities by the banned BANGLADESH AWAMI LEAGUE on Indian soil risks long-term friendship and multifarious engagements between #Bangladesh & #India as also mutual trust and respect between two (????????-????????) #people. pic.twitter.com/nzVqKaajNE
— Ministry of Foreign Affairs (@BDMOFA) August 20, 2025
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سرزمین پر اس جماعت کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس پر بنگلہ دیش نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے بیان میں واضح کیا گیا کہ مفرور رہنماؤں اور کالعدم جماعت کے کارکنان کی جانب سے بھارت میں دفاتر قائم کرنا اور سیاسی سرگرمیاں چلانا بنگلہ دیش کے عوام اور ریاست کے خلاف براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا۔
ڈھاکا حکومت نے خبردار کیا کہ اس طرح کی پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ عوامی جذبات کو بھی بھڑکا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دوطرفہ تعاون پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے 12 مئی 2025 کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ اور اس کی ذیلی تنظیموں کی تمام سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد سے جماعت کے کئی رہنما ملک سے فرار ہوکر بھارت میں سرگرم ہیں، جس پر بنگلہ دیشی حکام مسلسل تحفظات کا اظہار کرتے آرہے ہیں۔