ویب ڈیسک: معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد بھارتی حکومت کی دنیا بھر میں تذلیل ہورہی ہے، مودی حکومت اور اس کا گودی میڈیا اپنی عوام کو خوش کرنے کیلئے مختلف ڈرامے اور کہانی سنا رہا ہے مگر حقیقت دنیا جان چکی ہے، بھارت نے اب پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے 2 طرفہ روابط پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔
بھارت کی وزارتِ کھیل نے ایک نئی اور سخت پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق اب پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی قسم کے 2 طرفہ کھیلوں کے روابط نہیں ہوں گے، چاہے وہ دونوں ملکوں کے اندر ہوں یا کسی غیر جانبدار مقام پر، اس کے باوجود بھارتی ٹیم کو ایشیا کپ جیسے کثیرالجہتی ایونٹس میں شرکت کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ مقابلے بین الاقوامی فیڈریشنز کے تحت منعقد ہوتے ہیں۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہے، اس کے تحت بھارتی کھلاڑی پاکستان جا کر کسی سیریز میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور نہ ہی پاکستانی کھلاڑی بھارت آ کر کسی 2 طرفہ کھیل میں شریک ہوسکیں گے۔ البتہ اگر بھارت کسی بین الاقوامی ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے تو پاکستانی ٹیم یا کھلاڑی اس میں شریک ہوسکیں گے۔

اگر کسی بڑے ایونٹ کی میزبانی پاکستان کے پاس ہوئی تو بھارتی وزارت کھیل اس موقع پر الگ سے فیصلہ کرے گی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے معاملات میں بھارت کا رویہ دراصل دونوں ملکوں کے تعلقات کی مجموعی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے اور یہ کہ بھارت اب ایک قابلِ اعتماد میزبان ملک کے طور پر دنیا میں اپنی ساکھ بنا چکا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے تعلقات پر سیاسی کشیدگی طویل عرصے سے سایہ فگن ہے۔ کرکٹ کی دو طرفہ سیریز 2012 کے بعد سے معطل ہیں اور باقی کھیل بھی زیادہ تر عالمی یا ایشیائی ایونٹس تک محدود ہو گئے ہیں۔ کئی مواقع پر بھارتی ٹیموں نے پاکستان جانے سے انکار کیا جبکہ پاکستان نے بھی اپنے کھلاڑیوں کو بھارت بھیجنے سے متعلق محتاط رویہ اپنایا۔ حالیہ برسوں میں اس کشیدگی نے بڑے ایونٹس کے انعقاد کو مشکل بنا دیا ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے بھی تمام قومی فیڈریشنز کو ہدایت کی تھی کہ بھارت میں کسی کھیل میں شرکت سے پہلے حکومتی مشاورت اور اجازت لازمی ہوگی کیونکہ وہاں سیکیورٹی کے خدشات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا 14 ستمبر کو دبئی میں شیڈول ہے۔