معروف روحانی بزرگ خواجہ شمس الدین عظیمی انتقال کرگئے

معروف روحانی بزرگ خواجہ شمس الدین عظیمی انتقال کرگئے
کیپشن: معروف روحانی بزرگ خواجہ شمس الدین عظیمی انتقال کرگئے

ویب ڈیسک: (علی زیدی) سلسلہ عظیمیہ کے خانوادہ خواجہ شمس الدین عظیمی آج انتقال کرگئے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے علیل تھے۔ 

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر مرحوم کے بیٹے ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ "سلسلہ عظیمیہ کیجانب سے بہت دکھ کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ کے بندے، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی وعاشق صادق، حضرت محمد عظیم برخیا کے شاگردوجانشین،سلسلہ عظیمیہ کے مرشد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی آج بروز جمعہ 22 شعبان 1466 ہجری بمطابق 21 فروری 2025 ساڑھے دس بجے کے بعد اس دنیا سے وفات پاکر خالق حقیقی اللہ وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔

مرحوم کی نمازجنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ 

خواجہ شمس الدین عظیمی کا تعارف:

خواجہ شمس الدین عظیمی، پاکستان کے ممتاز روحانی اسکالر اور سلسلۂ عظیمیہ کے خانوادہ ہیں۔ شمس الدین عظیمی 17اکتوبر 1927ء بروز پیر بمقام قصبہ انبیٹھہ پیرزادگان ضلع سہارنپور (یوپی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ 

شمس الدین عظیمی روحانی ڈائجسٹ کراچی اور روحانی ڈائجسٹ انٹرنیشنل (برطانیہ) کے چیف ایڈیٹر تھے۔ آپ نے پاکستان کے مختلف اخبارات اور میگزین میں روحانی ڈاک، خواب کی تعبیر، قارئین کے مسائل اور پیراسائیکالوجی کے عنوان سے لاتعداد کالم لکھے۔ سیرت طیبہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، روحانیت، پیراسائیکالوجی اور دیگر موضوعات پر 61 کتابیں اور 60 کتابچے تحریر کیے۔ 

اب تک انگریزی زبان میں 14، روسی زبان میں 5، عربی زبان میں 2، فارسی زبان میں 1، تھائی زبان میں 3، پنجابی زبان میں 1 اور سندھی زبان میں 4 کتب کا ترجمہ ہو چکا ہے۔

شمس الدین عظیمی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ شمس الدین عظیمی کی تصنیف احسان و تصوف اس یونیورسٹی میں ایم اے اسلامیات کے نصاب میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ’’سالفورڈیونیورسٹی(U.K)‘‘ کے ڈیپارٹمنٹ آف Rehabilitation میں تین کتابیں شامل نصاب رہی ہیں۔ 

پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے لیے شمس الدین عظیمی کی تحریر کردہ ’’اسلامیات‘‘ کی کتب پاکستان کے مختلف اسکولوں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے پاکستان اور بیرون پاکستان کی یونیورسٹیز، تعلیمی اور دیگر اداروں میں طالب علموں اور پروفیسر حضرات کو لیکچرز دیے۔ پیراسائیکالوجی پر سیمینارز، ورکشاپس اور بین الاقوامی روحانی کانفرنسوں کاانعقاد کیا۔

سلاسل طریقت کے تحت صوفیائے کرام کے پیغامات اور ان کی تعلیمات کے فروغ کے لیے خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے قلندر شعور فاؤنڈیشن کے زیراہتمام خانقاہی نظام کی طرز پر مراقبہ ہال کے نام سے سینٹرز قائم کیے، جن کی تعداد پاکستان میں 61 اور بیرون پاکستان 23 ہے۔ 

ان میں امریکا، کینیڈا برطانیہ، ہالینڈ، ڈنمارک، روس، آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ روحانی علوم کے فروغ اور عوام الناس میں عادت مطالعہ کے فروغ کے لیے خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے پاکستان کے مختلف شہروں میں عظیمیہ روحانی لائبریریز قائم کیں۔ پاکستان کے علاوہ چند دیگر ممالک میں بھی عظیمیہ روحانی لائبریریز کا قیام عمل میں آیا۔

خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے بحیثیت روحانی معالج ہزاروں افراد سے بالمشافہ ملاقات کی اور بذریعہ خطوط اور فون سروس لاکھوں افراد کے مسائل کا حل بلامعاوضہ پیش کیا۔

شمس الدین عظیمی کی زیر سرپرستی قائم’’خواجہ شمس الدین عظیمی ایجوکیشنل سوسائٹی‘‘ نے سرجانی ٹاؤن کراچی میں بچوں کو جدید تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے عظیمی پبلک ہائر سیکنڈری اسکول قائم کیا۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر