سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرارجوڈیشل کو عہدے سے ہٹا دیا

سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرارجوڈیشل کو عہدے سے ہٹا دیا

(ویب ڈیسک )   سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذد عباس کو عہدے سے  ہٹا دیا۔

تفصیلات کے مطابق   سپریم کورٹ آف پاکستان  نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذد عباس کو عہدے سے ہٹا دیا۔

اعلامیے کے مطابق   ایڈیشنل رجسٹرار کی غلطی کی وجہ سے کیس آئینی بینچ کی بجائے ریگولر بینچ میں لگا، کیس غلط بینچ میں لگنے کی وجہ سے وسائل اور عدالتی وقت کا ضیاع ہوا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ  چیف جسٹس پاکستان نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو مقدمات کا اسکروٹنی جلد مکمل کرنے کا حکم دے دیا،کسٹم ایکٹ سے متعلق درخواستیں 27 جنوری کو آئینی بینچ میں سماعت کیلیے مقرر ہونگی۔

سپریم کورٹ نے اعلامیے میں  کہا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے آج ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کے خلاف توہین عدالت کی سماعت کی، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل علالت کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے، ایڈیشنل رجسٹرار کی جگہ رجسٹرار سپریم کورٹ بنچ کے سامنے پیش ہوئے، رجسٹرار سپریم  کورٹ نے استدعا کی کہ مقدمات کی سکروٹنی جاری ہے۔

اعلامیے کے مطابق  رجسٹرار سپریم کورٹ کو معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، اس سنگین غفلت کا ادراک ہوتے ہی جوڈیشل برانچ نے ایک نوٹ کے  ذریعے تین رکنی کمیٹی سے رجوع کیا، غلطی کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، کمیٹی نے 17 جنوری کو چیف جسٹس کی سربراہی میں اجلاس منعقد کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ  کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 191A کی شق 3 اور شق 5 کے مطابق یہ مقدمات آئینی بینچ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، کمیٹی نے ان مقدمات کو معمول کے بینچ سے واپس لے کر آئینی بینچ کمیٹی کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی، آئندہ تمام مقدمات جو آئین کے آرٹیکل 191A کے تحت آتے ہیں، انہیں لازمی طور پر آئینی بینچ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق  آئینی بینچ کمیٹی نے 17 جنوری 2025 کو اجلاس کیا، 26ویں آئینی ترمیم اور قوانین کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والے تمام مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کیا، 8 رکنی آئینی بنچ 26ویں ترمیم کیخلاف 27 جنوری کو سماعت کرے گا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ  رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا مقدمات کی شیڈولنگ میں غلطی ہوئی تھی جس کی جانچ کی جا رہی ہے،  رجسٹرار سپریم کورٹ نے مزید بتایا مقدمات کو معمول کے بینچ سے ہٹانے کا فیصلہ ایڈیشنل رجسٹرار کی بدنیتی پر مبنی نہیں تھا، یہ معمول کی کمیٹی کی ہدایات کی تعمیل میں لیا گیا تھا۔

Watch Live Public News