ویب ڈیسک: (علی زیدی) اوپن اے آئی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اب ChatGPT صارفین کی طرف سے عملی اقدامات انجام دینے کے قابل ہو گیا ہے۔ یہ نیا "ایجنٹ موڈ" فیچر فوری طور پر مرحلہ وار متعارف کروایا جا رہا ہے اور اسے صرف پلس، پرو اور ٹیم پلان صارفین استعمال کر سکیں گے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق نئے ایجنٹ موڈ کے تحت چیٹ جی پی ٹی ایک ورچوئل کمپیوٹر کے ذریعے خود سوچ کر فیصلے کرے گا اور پیچیدہ ہدایات پر عمل کرے گا۔ کمپنی کے مطابق، صارف اس سے کہہ سکے گا کہ "میرا کیلنڈر دیکھ کر آنے والے کلائنٹ میٹنگز کی خبری پس منظر کے ساتھ بریفنگ دو" یا "چار افراد کے لیے جاپانی ناشتہ پلان کرو اور اس کے اجزاء آن لائن خرید دو"۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ فیچر ChatGPT کے موجودہ "آپریٹر" اور "ڈیپ ریسرچ" ٹولز کو یکجا کرتا ہے، جہاں آپریٹر ویب براؤز کرتا ہے اور ڈیپ ریسرچ آن لائن مواد کا تجزیہ کر کے رپورٹس بناتا ہے۔
کمپنی نے تسلیم کیا کہ یہ نئی ٹیکنالوجی خطرات بھی رکھتی ہے۔ بعض حساس کام، جیسے ای میل بھیجنا، صارف کی اجازت سے ہی ممکن ہوں گے، جبکہ بینک ٹرانسفر جیسے خطرناک کاموں سے یہ ماڈل انکار کرے گا۔
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر کہا کہ "یہ ایک تجرباتی ٹیکنالوجی ہے، جو مستقبل کا حصہ ہے، مگر ذاتی معلومات کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔"
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گوگل، ایپل اور دیگر ٹیک کمپنیاں بھی AI ایجنٹس پر کام تیز کر رہی ہیں۔ گوگل نے حالیہ ڈویلپر کانفرنس میں ایسے ایجنٹس کا اعلان کیا جو ریستوران میں بکنگ اور ایونٹ ٹکٹس خرید سکتے ہیں، جبکہ ایپل اپنی سمارٹ اسسٹنٹ سری کو مزید خودکار بنانے پر کام کر رہا ہے۔