چین نےدریائے برہما پتر پر دنیا کا مہنگا ترین ڈیم بنانا شروع کر دیا

چین نےدریائے برہما پتر پر دنیا کا مہنگا ترین ڈیم بنانا شروع کر دیا
کیپشن: چین نے برہما پتر پر دنیا کا مہنگا ترین ڈیم بنانا شروع کر دیا

ویب ڈیسک: چین نے تبت کے علاقے میں بہنے والے یارلُنگ سانگپو (جسے بھارت میں برہما پتر کہا جاتا ہے) پر ہفتے کے روز ایک میگا ہائیڈروپاور منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم لی کیانگ نے شرکت کی۔

اس منصوبے کا مقصد چین کے کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کرنا اور تبت کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق، ڈیم سے بننے والی بجلی مقامی ضروریات کے ساتھ ساتھ چین کے دیگر علاقوں کو بھی فراہم کی جائے گی۔

تخمینہ ہے کہ منصوبے پر 1.2 ٹریلین یوآن (167.1 ارب ڈالر) لاگت آئے گی اور پانچ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز بنائے جائیں گے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ یہ ڈیم تھری گورجز ڈیم سے بھی بڑا ہو سکتا ہے، جس سے بھارت اور بنگلہ دیش کے لاکھوں لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے زیریں علاقوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور وہ متعلقہ ممالک سے رابطے میں رہے گا۔ بھارت پہلے ہی اس منصوبے پر اپنے تحفظات ظاہر کر چکا ہے اور ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا پن بجلی ڈیم

 رپورٹ کے مطابق اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 70 ہزار میگاواٹ فی گھنٹہ سے زیادہ ہے جو اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے تھری گورجز ڈیم سے بھی تین گنا ہے۔ یہ  دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور ڈیم  ہوگا۔

2020 میں چین کی پاور کنسٹرکشن کارپوریشن کے فراہم کردہ ایک تخمینے کے مطابق یہ ڈیم، جو دریائے یرلنگ زانگبو کے نچلے حصے میں واقع ہوگا، سالانہ 300 بلین کلو واٹ گھنٹے بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ جس کے بعد اس کی صلاحیت تھری گورجز ڈیم کی ڈیزائن کردہ 88.2 بلین کلو واٹ صلاحیت سے تین گنا زیادہ ہو جائے گا، 

چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا  کے مطابق یہ منصوبہ چین کے کاربن غیر جانبداری کے اہداف کو پورا کرنے، انجینئرنگ جیسی متعلقہ صنعتوں کو تحریک دینے اور تبت میں ملازمتیں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 
بھارت اور بنگلہ دیش کو تعمیر پر خدشات

بھارت اور بنگلہ دیش نے اس کے باوجود ڈیم کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے، اس منصوبے سے نہ صرف مقامی ماحولیات بلکہ دریا کے بہاؤ اور بہاؤ کو بھی ممکنہ طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انڈیا حالیہ برسوں میں پاکستان میں بہنے والے پانی کو روکنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے
 دریائے براہما پترا

یارلنگ زانگبو تبت سے نکلتے ہی دریائے براہما پترا بن جاتا ہے اور جنوب کی طرف بھارت کی اروناچل پردیش اور آسام ریاستوں اور آخر میں بنگلہ دیش میں بہتا ہے۔

چین نے پہلے ہی یارلونگ زانگبو کے بالائی علاقوں پر پن بجلی کی پیداوار شروع کر دی ہے، جو تبت کے مغرب سے مشرق کی طرف بہتا ہے۔ یہ اوپر کی طرف مزید منصوبوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

بھارت کے ارمان دل میں رہ گئے

 یادرہے بھارت بھی براہما پترا پر ایک بڑا ڈیم تعمیر کرنے کے بارے میں سوچ و بچار کر رہا ہے تاکہ چین کے ڈیم کی تعمیر سے پیدا ہونے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور انڈیا کے مابین پانی کی جنگ اگر چھڑ گئی تو یہ قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور بنگلہ دیش کو اس سے بھی بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔

انڈیا اور چین کے مابین پانی کی تقسیم کے حوالے کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ چین اور انڈیا نے 2002 میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا ایک دوسرے سے شیئر کرنے کا ایک معاہدہ کر رکھا ہے لیکن انڈیا کا کہنا ہے کہ 2017 میں ڈوکلام کے علاقے انڈیا اور چین کے فوجوں کے مابین کشیدگی کے بعد سے چین نے وہ تعاون بھی ختم کر دیا ہے۔

دنیا کے 10 بڑے دریا تبت سے برآمد 

تبت دنیا بھر میٹھے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور یہاں سے دس بڑے دریا بہتے ہیں جس پر افغانستان سے لے کر ویتنام تک دو ارب سے زیادہ لوگوں کا انحصار ہے۔

دنیا میں موجود پانی میں سے صرف اڑھائی فیصد میٹھا پانی ہے اور اس کا آدھے سے زیادہ حصہ قطب شمالی کی برف میں پھنسا ہوا ہے۔ دنیا میں صنعتی ترقی کی وجہ سے میٹھے پانی کی دستیابی میں دن بدن کمی ہو رہی ہے۔

تبت سے نکلنے والے دس بڑے دریاؤں میں ییلو، یانگزی، میکانگ ( چین) دریائے سندھ (پاکستان)، ستلج، براہماپترا (یرلانگ زنگبو) ( انڈیا) سلوین (میانمار)، اراوادی (میانمار) اور دریائے بھوتی (نیپال) شامل ہیں۔

Watch Live Public News