مردوخاتون کو قتل کرنے کا واقعہ، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کا نوٹس، آئی جی پولیس طلب

مردوخاتون کو قتل کرنے کا واقعہ، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کا نوٹس، آئی جی پولیس طلب

(ویب ڈیسک ) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اعجاز سواتی نے مرد اور خاتون کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس بلوچستان کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کو 22 جولائی کو طلب کر لیا گیا ہے۔

گزشتہ روز بلوچستان میں خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔جس میں  مسلح افراد نامعلوم مقام پر خاتون اندھا دھند فائرنگ کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

ترجمان بلوچستان حکومت  کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو وائرل ہونے کا نوٹس لیا تھا۔

شاہد رند نے کہا تھا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ عیدالاضحیٰ کے قریب کا واقعہ ہے، اب تک لاشیں برآمد نہیں ہوئیں، علاقے میں اس وقت سی ٹی ڈی اور پولیس موجود ہے۔

 جوڈیشل مجسٹریٹ کا قبر کشائی کا حکم: 

دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ13 اختر شاہ  کی جانب سے مقتولہ کی قبر کشائی کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں ڈیگاری میں مقتول خاتون کی قبر کشائی کی گئی ہے۔

ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج: 

افسوسناک واقعے میں اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ   واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں درج  کرلیا گیا ہے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ زیر دفعہ 302 ت پ اور دیگر دفعات کے تحت ایس ایچ ایو نوید اختر  کی مدعیت میں  مقدمہ درج کیا ہے۔

مدعی نے تھانہ میں تحریری درخواست دی کہ ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خاتون اور مرد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔

ایف آئی آر  میں کہا گیا ہے کہ پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ سنجیدی ڈیگاری مارگٹ پہنچی، معلومات کرنے پر علم ہوا کہ واقعہ عیدالاضحیٰ سے تین روز قبل کا ہے، واقعہ میں بانو بی بی اور احسان اللہ کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔

مدعی مقدمہ نے درخواست میں کہا کہ  تمام افراد مرد اور خاتون کو قتل کرنے سے قبل سردار شیر باز خان کے پاس لیکر گئے، واقعہ کے دوران ویڈیو بنائی گئی اور سوشل میڈیو کے ذریعے اپ لوڈ کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا گیا۔

 ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ کرنے والوں میں شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر، عجب خان شامل ہیں، سردار شیر باز خان نے فیصلہ سنایا کہ خاتون اور مرد کار و کاری کے مرتکب ہوئے ہیں، انہیں قتل کر دیا جائے۔

معاملے میں جان محمد، بشیر احمد اور دیگر 15 نامعلوم افراد بھی شامل ہیں،سردار شیر باز خان کے  فیصلے کے بعد مرد اور خاتون کو گاڑیوں میں لیکر سنجیدی ڈیگاری مارگٹ لاکر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔

Watch Live Public News