ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے 462 ارب 16 کروڑ روپے مختص کر دیے ہیں، جو گزشتہ برس کے 451 ارب 40 کروڑ روپے کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہے۔
فنانس ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پنشن اخراجات میں یہ اضافہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث ہوا ہے۔ یہ بجٹ پنجاب کے کل سالانہ اخراجات کا 19 فیصد بنتا ہے، جسے "فنانشل رسک" کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
پنجاب کا پنشن بجٹ اس وقت خیبر پختونخوا اور سندھ کے مجموعی پنشن بجٹ سے 2.3 گنا زیادہ ہے، جو صوبے کے مالیاتی بوجھ میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق مختص کردہ رقم تمام ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ مراعات فراہم کرنے پر صرف کی جائے گی۔ حکومت نے آئندہ مالی سال سے تمام نئے پنشن کیسز کو آن لائن سسٹم سے منسلک کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ شفافیت، رفتار اور ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔