ویب ڈیسک: (علی زیدی) چین، جو دنیا کے سب سے سخت انٹرنیٹ سنسرشپ اور نگرانی کے نظام کا حامل ہے، اب مزید سخت اقدامات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے "قومی انٹرنیٹ شناختی نظام" (National Internet ID) متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے صارفین ایک ہی شناخت کے ساتھ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ویب سائٹس تک رسائی حاصل کریں گے۔
اس نئے نظام کے تحت، جو فی الحال رضاکارانہ ہے اور جولائی کے وسط سے نافذ کیا جائے گا، صارفین کو ہر ویب سائٹ پر الگ الگ شناختی تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی شناختی معلومات کو محفوظ بنانا اور ڈیجیٹل معیشت کی منظم ترقی کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کے تحفظات: اظہار رائے پر کاری ضرب
ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ یہ نیا سسٹم آزادی اظہار کو مزید محدود کر دے گا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے انٹرنیٹ فریڈم ریسرچر شاؤ چیانگ کا کہنا ہے کہ یہ صرف نگرانی کا نظام نہیں بلکہ "ڈیجیٹل آمرانہ نظام کا بنیادی ڈھانچہ" ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایک ہی شناخت سے منسلک تمام پلیٹ فارمز پر کسی بھی صارف کو مکمل طور پر مٹانا اب آسان ہو جائے گا، اور حکومت ناپسندیدہ آوازوں کو فوری طور پر ختم کر سکے گی۔
قانونی اور تکنیکی خدشات
ہانگ کانگ یونیورسٹی کے قانون دان پروفیسر ہاؤچین سن کے مطابق، اگرچہ سسٹم کو ظاہری طور پر رضاکارانہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن مستقبل میں یہ صارفین کے لیے ناگزیر بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مرکزی سطح پر معلومات جمع کرنے سے ڈیٹا لیکس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
یاد رہے کہ 2022 میں چینی پولیس ڈیٹا بیس میں ایک بڑا سیکیورٹی بریچ سامنے آیا تھا، جس میں ایک ارب شہریوں کا ڈیٹا لیک ہوا تھا۔
حکومتی دعوے اور سرکاری بیانیہ
چینی حکومت اور سرکاری میڈیا نے انٹرنیٹ آئی ڈی کو "شہری معلومات کا بُلٹ پروف جیکٹ" قرار دیا ہے اور اسے سیکیورٹی کے لیے ایک مثبت قدم کہا ہے۔ شینہوا نیوز ایجنسی کے مطابق، اب تک 60 لاکھ سے زائد افراد اس نظام میں رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ چین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔
ناقدین کی آوازیں دبائی گئیں
جون 2024 میں عوامی رائے کے لیے یہ تجویز پیش کی گئی تھی، مگر جلد ہی ناقدین کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس ہٹا دی گئیں۔ معروف قانون دان اور پیکنگ یونیورسٹی کی پروفیسر لاؤ دونگیان کی ویبو پوسٹ، جس میں انہوں نے اسے "ہر فرد پر نگران آلہ لگانے" سے تعبیر کیا تھا، جلد ہی حذف کر دی گئی، اور ان کا اکاؤنٹ تین ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی آزمودہ حکمت عملی ہے—پہلے شور مچنے دو، پھر خاموشی سے قانون نافذ کر دو۔