(ویب ڈیسک ) لیبیا کشتی حادثہ 2025 میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا اہم کارندہ گرفتار کرلیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی کی ہدایات پر کشتی حادثات میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کردیا گیا۔ لیبیا کشتی حادثے 2025 میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا کارندہ گرفتار ، ملزم کی شناخت نواب خان کے نام سے ہوئی۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم اور اس کے ساتھی افریقہ اور گلف ممالک سے انسانی سمگلنگ کا گینگ چلا رہے تھے۔ ملزم کو چھاپہ مار کارروائی میں پشاور سے گرفتار کیا گیا۔ملزم رواں ماہ لیبیا میں ہونے والے کشتی حادثے میں ملوث ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے متعدد متاثرین کو یورپ بھجوانے کے لئے بھاری رقوم وصول کیں۔ملزمان نے شہریوں کو سمندر کے راستے یورپ بھجوانے کی کوشش کی۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کشتی حادثے میں خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے متعدد شہریوں کی موت واقع ہوئی۔چھاپہ مار کاروائی میں ملزم کے موبائل فون سے ویڈیوز، تصاویر، میسیجز اور بینک ٹرانزیکشنز بھی برآمد کر لی گئیں۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے زیر استعمال بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جو قانونی کارروائی کے بعد منجمد کر دیے جائیں گے۔ بیرون ملک مقیم ایجنٹس تک رسائی کے لیے مالیاتی و دیگر شواہد کی جانچ جاری ہے ۔ ملزم کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے ۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم افغان شہری ہے، جس نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر رکھا تھا۔ ملزم کی شناخت کی تصدیق کے لیے نادرا سے ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔ملزم کی جائیدادوں اور اس کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لئے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم منی لانڈرنگ میں بھی ملوث پایا گیا جس کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ ونگ کو تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں،ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا، انٹرپول کی مدد سے بیرون ملک سے انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ڈائریکٹر پشاور زون کا کہنا ہے کہ کشتی حادثات میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، ملزمان کی گرفتاری کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ انٹلیجنس بنیادوں پر انسانی سمگلروں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو بھی معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں۔ ٹھوس شواہد کی روشنی میں ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دلوائیں گے۔