ویب ڈیسک: برطانیہ کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب الیکٹریکل سب اسٹیشن میں زبردست آتشزدگی کے باعث پوری دنیا میں پروازوں کے نظام الاوقات میں خلل پڑا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے لندن کے اس اہم ایئرپورٹ کو جمعہ کو مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
لندن فائر بریگیڈ نے کہا کہ لگ بھگ 70 فائر فائٹرز لندن کے مغرب میں لگنے والی آگ پر قابو پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے یورپ کے مصروف ترین اور دنیا کے 5ویں مصروف ترین ہوائی اڈے ہیتھرو میں بڑے پیمانے پر بجلی منقطع ہوگئی۔
آسمان میں نارنجی رنگ کے بڑے بڑے شعلے اور دھواں دیکھا جا سکتا ہے، 150 کے قریب لوگوں کو قریبی عمارتوں سے نکالا گیا اور ہزاروں املاک بجلی سے محروم ہیں، فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

ہمارے مسافروں اور ساتھیوں کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے لیے، ہیتھرو 21 مارچ کی رات 11:59 بجے تک بند رہے گا، ہیتھرو ایئرپورٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں مسافروں کو ایئرپورٹ نہ آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ راڈار24کے مطابق ہیتھرو ایئرپورٹ جانے والی کم از کم 120 ان باؤنڈ پروازوں کا رخ دوسرے ایئرپورٹس کی طرف موڑنا پڑا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کو ہیتھرو اترنے اور اڑنے والی کم از کم 1,351 پروازیں متاثر ہوں گی، ان میں وہ پروازیں شامل نہیں ہیں جو ہوائی جہاز کی پوزیشن سے باہر ہونے کی وجہ سے منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں۔
برٹش ایئرویز کی خود ہی 341 پروازیں جمعہ کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترنے والی تھیں، فلائٹ راڈار 24 کے ترجمان ایان پیٹچینک کے مطابق ہیتھرو ایئرپورٹ دنیا کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے اور یہ دنیا بھر میں ایئرلائنز کے آپریشنز میں خلل پیداکرےگا۔
قنطاس ایئرویز نے اپنی پرواز پرتھ سے پیرس بھیجی، یونائیٹڈ ایئرلائنز کی نیویارک کی پرواز شینن، آئرلینڈ کے لیے روانہ ہوئی اور سان فرانسسکو سے یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز لندن کے بجائے واشنگٹن ڈی سی میں اترنے والی تھی۔
امریکا سے آنے والی کچھ پروازوں کو دوران پرواز ہی فضا میں اپنا رخ تبدیل کرتے ہوئے اپنے روانگی کے مقام پر واپس لوٹنا پڑا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سفری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خلل ہیتھرو ایئرلائنز کے احتیاط سے کوریوگراف شدہ نیٹ ورکس سے کہیں آگے بڑھے گا جو ہوائی جہازوں اور عملے کے مخصوص اوقات میں مخصوص مقامات پر ہونے پر منحصر ہے۔
ہیتھرو ایئرپورٹ کے ترجمان کے مطابق بجلی کب بحال ہوگی اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے، انہوں نے آئندہ چند روز کے دوران اہم فلائٹ آپریشن میں رکاوٹ کا خدشہ ظاہر کیا۔