(ویب ڈیسک )وائرل ہونے والی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپاہی کو اس کے بیان کیے گئے انکشافات کے باعث خفیہ ایجنسیوں نے قتل کر دیا۔مذکورہ ویڈیو کو پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے حامی سوشل میڈیا کارکنوں نے بڑے پیمانے پر شیئر کیا۔
جنوبی ایشیائی کے معاشرتی طبقوں کے ڈیٹا پر مبنی مطالعہ کی ویب سائٹ جی فائیو آئی او کے مطابق 16 مارچ 2025 کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک خود ساختہ سپاہی نے دعویٰ کیا کہ وہ فوج سے استعفیٰ دے چکا ہے کیونکہ اس نے اپنے افسران کے حکم پر 12 شہریوں کو قتل کیا تھا۔
ویڈیو میں شخص نے کہا کہ 12 شہریوں کو قتل کرنے کے بعد اس کا ضمیر جاگ گیا اور اس نے استعفیٰ دے دیا۔
17 مارچ 2025 کو اصل ویڈیو پہلے ٹک ٹاک پر ’پاراچنار نیوز‘کے ہینڈل سے اپلوڈ کی گئی تھی۔ فنی تجزیے اور مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس ویڈیو کو اے آئی کی مدد سے بنایا گیا ہےا ور جو شخص ویڈیو میں دکھایا گیا تھا، وہ حقیقت میں کوئی فرد نہیں تھا۔
اس فیکٹ چیک رپورٹ میں ویڈیو کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے جو اس مواد کی جھوٹے ہونے کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جھوٹا دعویٰ کرنا شروع کردیا گیا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا شخص قتل کر دیا گیا تھا، اس بیانیے کو ریاست مخالف پروپیگنڈا نیٹ ورک سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے زورو شور سے پھیلایا گیا جس کا مقصد ریاستی اداروں کے خلاف عدم اعتماد اور نفرت کو بڑھانا تھا۔
جی فائیو آئی او کے مطابق اس جھوٹے دعویٰ سے جس کا کوئی واضح ثبوت نہیں تھا، لسانی اور علاقائی کمیونٹیوں میں مزید کشیدگی کو بڑھا کر ریاست مخالف جذبات کو تیز کیا گیا،یہ دانستہ غلط معلومات مہم اے آئی سے تیار کردہ مواد کے اسٹریٹیجک استعمال کو ظاہر کرتی ہے، جس کا مقصد عوامی رائے میں ہیرا پھیری اور بے چینی پیدا کرنا ہے۔
ویڈیو کی حقیقت کی جانچ:
اس ویڈیو کا تفصیلی جائزہ لینے سے پتہ چلا کہ اس میں کئی تکنیکی اور منطقی تضادات ہیں ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس ویڈیو کو اے آئی بیسڈ مورفنگ اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں چہرے کے تاثرات اور آنکھوں کی حرکت میں بھی تضاد نظر آرہا ہے۔ شخص غیر فطری طور پر روتا ہوا نظر آ رہا ہے تاہم آنکھوں سے آنسو نہیں بہتے، اس کے علاوہ چہرے اور آنکھوں کی حرکات ویڈیو کے مختلف حصوں میں آپس میں میل نہیں کھاتیں جو کہ اے آئی کی مدد سے مواد میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
چہرے کے خدوخال اور ہونٹوں کی حرکت ویڈیو میں اس شخص کے ہونٹوں کی حرکت اور بولے جانے والے الفاظ میں واضح تضاد پایا گیا ، جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ویڈیو ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ویڈیو میں اس شخص کا چہرہ غیر فطری طور پر ہموار اور بے داغ نظر آرہا ہے جو کہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
غلط شناخت اور پروپیگنڈا :
مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد زخمی پولیس کانسٹیبل کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ وہی سپاہی ہے جسے خفیہ ایجنسیوں نے قتل کیا ہے۔لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ پولیس کانسٹیبل ایک حادثے میں زخمی ہوا تھا اور اس کا ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ایک بات اور قابل غور ہے کہ اس تصویر میں پولیس کا کیپ ہٹایا گیا تھا تاکہ اسے سپاہی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
نتیجہ:
یہ ویڈیو ایک مکمل طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنی ہوئی اور غلط معلومات پر مبنی ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور ریاستی اداروں کے خلاف جذبات بھڑکانا تھا۔ اس واقعے سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ کس طرح ڈیپ فیک اور اے آئی ٹیکنالوجیز کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جائے۔
اہم نکات:
- ویڈیو میں دکھایا گیا شخص ایک ڈیجیٹل طور پر تخلیق کردہ( اے آئی سے بنایا گیا) شخص ہے۔
- ہونٹوں کی حرکت، چہرے کے تضادات اور آنکھوں کی حرکت میں عدم مطابقت اے آئی پر مبنی ویڈیوز کی علامات ہیں۔
- ویڈیو میں کوئی فوجی شناخت یا دستاویزات کا ذکر نہیں کیا گیا۔
- ویڈیو کی منظم طریقے سے شیئرنگ اور مختلف علاقوں کے ہدف گروپوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔