2گھنٹےسےزیادہ موبائل فون کے استعمال پر پابندی پرغور

2گھنٹےسےزیادہ موبائل فون کے استعمال پر پابندی پرغور
کیپشن: 2گھنٹےسےزیادہ موبائل فون کے استعمال پر پابندی پرغور

ویب ڈیسک: دنیا بھر میں اسمارٹ فونز کا استعمال روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور اربوں افراد روزانہ گھنٹوں ان ڈیوائسز میں مصروف رہتے ہیں۔ تاہم جاپان کے ایک شہر نے اس حوالے سے منفرد اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وسطی جاپان کے شہر توہوآکے میں ایک مجوزہ آرڈیننس کے تحت شہریوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں یا دفاتر کے اوقات کے علاوہ روزانہ زیادہ سے زیادہ صرف دو گھنٹے اسمارٹ فون استعمال کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسودے میں دو گھنٹے سے زائد استعمال پر کسی قسم کی سزا تجویز نہیں کی گئی۔

شہر کے میئر ماسا فومی کوکی نے بیان میں کہا کہ اس تجویز کا مقصد اسمارٹ فونز کے حد سے زیادہ استعمال کو کم کرنا ہے، کیونکہ یہ عادت جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل، نیند کی کمی اور سماجی تعلقات پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔ مسودے میں خاص طور پر طالبعلموں کو رات 9 سے 10 بجے کے بعد فون استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مقامی رہائشیوں نے اس تجویز پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق روزانہ صرف دو گھنٹے میں فون استعمال کرنا حقیقتاً ممکن نہیں۔ ایک شہری نے کہا کہ "دو گھنٹے تو ایک فلم دیکھنے کے لیے بھی ناکافی ہیں، تو پھر عملی زندگی میں یہ پابندی کیسے قابلِ عمل ہو سکتی ہے؟"

تنقید کے جواب میں میئر نے وضاحت کی کہ یہ قانون لازمی نوعیت کا نہیں ہوگا بلکہ ایک رہنمائی کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اسمارٹ فونز جدید دور میں ناگزیر ہیں اور ان کا مثبت استعمال روزمرہ زندگی کے لیے اہم ہے، تاہم ضرورت سے زیادہ انحصار سے بچنے کے لیے آگاہی پیدا کرنا مقصود ہے۔"

یہ مجوزہ آرڈیننس آئندہ ہفتے مقامی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اگر منظوری دی گئی تو اس پر عملدرآمد اکتوبر 2025 سے شروع ہوگا۔ ماہرین کے مطابق جاپانی نوجوان اوسطاً روزانہ پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت آن لائن گزارتے ہیں۔

Watch Live Public News