(ویب ڈیسک ) پاکستان نے اقوام متحدہ میں دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے دہشتگردی کے خطرات اورعالمی دوہرے معیار بے نقاب کردیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سیکرٹری جنرل کی جانب سے داعش کے عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرات پر پیش کی گئی 21ویں رپورٹ پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب نے ایک جامع اور بھرپور خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان کی بے مثال قربانیوں کو اجاگر کیا، خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں دوہرے معیار ترک کیے جائیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا “دنیا میں چند ہی ممالک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی قربانیاں دی ہیں جتنی پاکستان نے دی ہیں۔ 80 ہزار جانوں کا نذرانہ اور معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہماری جدوجہد کی گواہی ہے۔” انہوں نے یاد دلایا کہ القاعدہ کو شکست دینے میں پاکستان کا مرکزی کردار تھا اور آج بھی پاکستان داعش اور اس کے اتحادی گروہوں جیسے تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے خلاف صفِ اول میں کھڑا ہے۔
مندوب نے خبردار کیا کہ افغانستان میں غیر حکومتی علاقوں سے یہ دہشت گرد گروہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: “ پاکستان کے لیے یہ خطرہ فوری اور سنگین ہے۔ تحریک طالبان پاکستان، جس کے تقریباً 6 ہزار جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں، براہِ راست ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔” انہوں نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے باہمی تعاون کے شواہد پیش کیے جو پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، ترقیاتی منصوبوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے حالیہ المناک واقعات کا حوالہ دیا جن میں مارچ میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے نتیجے میں 31 مسافروں کی شہادت اور مئی میں خضدار میں اسکول بس پر حملے کے دوران 10 جانوں کا ضیاع ہوا، جن میں آٹھ بچے شامل تھے۔ انہوں نے کہا: “یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ چھینی ہوئی زندگیاں اور برباد مستقبل ہیں۔”
پاکستانی مندوب نے بھارت پر ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سرحد پار قاتلانہ کارروائیوں اور پراکسی دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے 6 اور 7 مئی کی رات بھارت کی جارحیت کا حوالہ دیا جب شہری آبادی پر حملے میں 54 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں 15 بچے اور 13 خواتین شامل تھیں۔
انہوں نے کہا “جب ریاستی دہشت گردی کو انسدادِ دہشت گردی کا لبادہ اوڑھایا جائے تو سب سے پہلے عالمی امن شہید ہوتا ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ آج دہشت گردی محاذ جنگ سے نکل کر ڈیجیٹل دنیا میں منتقل ہو رہی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور آئی سی ٹی کا غلط استعمال کر کے نوجوانوں کو ورغلا رہی ہیں اور فنڈنگ کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو انٹرپول سے لے کر قومی سطح تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانا ہوگا تاکہ دہشت گردی کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو کاٹا جا سکے۔
اکستانی مندوب نے پانچ نکاتی لائحہ عمل بھی پیش کیا
- دہشت گردی کی جڑوں اور اس کے بنیادی اسباب کا خاتمہ۔
- ریاستی دہشت گردی اور ظلم و جبر کا سدباب، بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں۔
- دہشت گردی اور جائز حقِ خودارادیت کے درمیان واضح فرق کیا جائے۔
- اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نظام کو نئی جہتوں کے مطابق ڈھالا جائے اور اسلاموفوبیا پر مبنی امتیاز ختم کیا جائے۔
- ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط کیا جائے۔
خطاب کے اختتام پر مندوب نے کہا “مؤثر انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ حکمت عملی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور دوہرے معیار کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ صرف اتحاد اور تعاون سے ہی ہم دہشت گردی پر قابو پا سکتے ہیں۔”