ویب ڈیسک : تبدیلیاں ناگزیر،جنگوں سے بچنے کی کوشش کرینگے۔۔ نئے امریکی وزیر خارجہ نے چین کو وارننگ دیدی۔
امریکا کے نئے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ملک کے اعلیٰ ترین سفارت کار کی حیثیت سے محکمہ خارجہ کا دورہ کیا جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر محکمہ خارجہ کے داخلی دروازے پر جمع ہونے والے سینکڑوں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے روبیو نے امریکی قومی مفادات پر مرکوز خارجہ پالیسی کے لیے اپنی وابستگی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ "ہمارا مشن ایسی کوئی بھی چیز ہوگی جو ہمیں مضبوط، یا محفوظ یا زیادہ خوشحال بناتی ہے۔"
روبیو نے مزید کہا کہ امریکا تنازعات سے بچنے کی کوشش کرے گا جبکہ قومی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی بنیادی اقدار کی قربانی دے گا۔
یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں, مارکو روبیو نے وہاں پر جمع اسٹاف کو یقین دلایا کہ تبدیلیاں ہوں گی، لیکن یہ تبدیلیوں تباہ کن نہیں ہوں گی اور نہ ہی ان کا مقصد کسی کو سزا دینا ہے۔
وزیر خارجہ نےامریکی فارن سروس ورک فورس کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اپنے نئے کردار میں کچھ خاص کام کرنے کی خواہش کا اظہارکرتے ہوئے کہا۔
"میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں - ان تمام لوگوں کا جو باہر کی دنیا میں اور بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں، کچھ ایسے مقامات پر جو مضبوط اور مستحکم ہیں، اور دوسرے جو زیادہ کمزور اور خطرناک ہیں۔
انہوں نے مزید کہا،"میں مقامی طور پر ملازمت کرنے والے عملے، ان ممالک کے شہریوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں۔
توسیع پسندانہ اقدامات پر چین کو مارکو روبیو کی وارننگ
قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو اپنے پہلے دن چار ملکی اتحاد جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ایشیا میں جابرانہ اقدامات کے خلاف خبردار کیا ہے، جو چین کی جانب سے سمندر میں کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے ایک بلواسطہ لیکن واضح تنبیہ ہے۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے ایک دن بعد چار ملکی اتحاد ’ کواڈ‘ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کی، جنہوں نے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف سخت اقدامات لینے کے عزم کا اظہار کیا۔
ایک مشترکہ بیان میں مارکو روبیو اور ان کے ہم منصبوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے خطے کی حمایت کرتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھا جاتا ہے اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم کسی بھی یکطرفہ اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو طاقت یا جبر کے ذریعے موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔
اگلا ’’ کواڈ اجلاس ’’ کہاں ہوگا؟ نئے امریکی وزیر خارجہ کا پہلا غیر ملکی دورہ ؟
وزرائے خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اس سال انڈیا میں طے شدہ کواڈ سربراہی اجلاس کو منعقد کرنے کے لیے کام کریں گے۔ جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔ جس کو واشنگٹن میں چین کے خلاف ایک مضبوط اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تائیوان پر امریکی موقف پر زور
ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں ہندو انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کیا جس نے ان کے اعزاز میں کرکٹ سٹیڈیم میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا تھا۔حال ہی میں چین اور فلپائن کے درمیان علاقائی تنازعات پر کشیدگی رہی، جو ایک امریکی اتحادی ہے۔ مارکو روبیو نے تائیوان پر چین کے ممکنہ حملے کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا، جو ایک خودمختار جمہوریت ہے او جسے چین اپنا حصہ مانتا ہے۔
’’ کواڈ ’’چار ملکی اتحاد کیا ہے؟
اس چار ملکی اتحاد کی تجویز جاپان کے مقتول وزیراعظم شینزو آبے نے دی تھی اور سابق صدر جو بائیڈن نے اس کو سربراہی اجلاس میں تبدیل کیا تھا۔ اس اتحاد میں امریکہ، انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ چین نے بارہا اس اتحاد پر تنقید کی ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ یہ ایک امریکی سازش ہے جس کا مقصد بڑھتے ہوئے ایشیائی اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔