ویب ڈیسک: حکومتِ پاکستان نے بلیو اکانومی کے شعبے میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کراچی میں 10.5 ملین ڈالر کی لاگت سے جدید ایکوا کلچر پارک کے قیام کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کی سہولت کاری سے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان میں بلیو اکانومی منصوبوں میں مقامی ا ور غیر ملکی سرمایہ کاری ہے،حکومت نے پائیدار سمندری ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیاا ور جدیدیت اور تعاون پر زور دیا۔کراچی میں 10.5 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری سے ایکوا کلچر پارک بنانے کی منصوبہ بندی پیش کی۔
ایکوا کلچر سمندری یا میٹھے پانی میں مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر آبی حیات کی افزائش کا عمل ہے، پاکستان کے ساحلی پانی میں ایکوا کلچر کے ذریعے آبی حیات کی پیداوار میں اضافہ ہوگااور بلو اکانومی کو تقویت ملے گی،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایکواکلچر پارک کی ترقی، سستی زمین سے نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، ایکواکلچر پارک کی سالانہ پیداوار 360 ٹن سے 1,200 ٹن تک اورآمدنی 7 لاکھ 20 ہزار ڈالر سے 7.2 ملین ڈالرمتوقع ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور، محمد جنید انور چوہدری کی جانب سے 10 دن میں ایکوا کلچر پارک کی عملیاتی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی،بلوچستان میں ایکوا کلچر ماڈل کو توسیع دینے کی تجویز، ساحلی وسائل کے بھرپور استعمال کی کوشش دی گئی،بلیواکانومی منصوبوں میں ایس آئی ایف سی کا مرکزی کردار، سمندری ترقی کےلیے اسٹریٹجک تعاون پر زور دیا۔