ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ملک میں سفید فام شہریوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نسل کشی کے الزام پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ معذرت میرے پاس آپ کو دینے کیلئے جہاز نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک غیر متوقع صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب ٹرمپ نے نسل کشی سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز دکھائیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کو مارا جا رہا ہے اور وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے ایک ویڈیو بھی دکھائی جس میں چند افراد " کسان کو مارو" کے نعرے لگا رہے تھے۔ ٹرمپ نے اس ویڈیو کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ جنوبی افریقا میں جاری نسل پرستانہ مظالم کی عکاسی کرتی ہے۔
جنوبی افریقی صدر رامافوسا نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ ایسے نعرے حکومت کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقی حکومت قانون کی حکمرانی اور نسلی ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے۔
طنزیہ جملوں کا تبادلہ
ملاقات کے دوران ماحول اس وقت مزید دلچسپ ہو گیا جب صدر رامافوسا نے طنزیہ انداز میں ٹرمپ سے کہا: "معذرت، میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کوئی طیارہ نہیں ہے۔"
South African President Ramaphosa to Trump:
— Clash Report (@clashreport) May 21, 2025
I am sorry, I don't have a plane to give you. pic.twitter.com/xkLSyKMqPf
اس پر ٹرمپ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "کاش آپ ایسا کرتے، اگر آپ کا ملک امریکی فضائیہ کو یہ آفر دیتا تو میں ضرور قبول کرتا۔"
یہ جملہ دراصل اس پس منظر میں تھا کہ ٹرمپ نے حال ہی میں قطر سے ایک لگژری طیارہ بطور تحفہ قبول کیا ہے، جس پر کئی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا چکی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر اور ان کے حامی کئی بار جنوبی افریقا میں سفید فام کسانوں پر مظالم کا دعویٰ کر چکے ہیں، تاہم جنوبی افریقی حکومت ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیتی ہے۔