ویب ڈیسک: امریکی دارالحکومت میں یہودی میوزیم کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔ واقعہ بدھ کی شب اس وقت پیش آیا جب کیپیٹل جیوش میوزیم کے باہر امریکی یہودی کمیٹی کی جانب سے ایک تقریب جاری تھی۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سفارت خانے کے دو ارکان کو واشنگٹن ڈی سی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
حملہ آور موقع پر گرفتار

میٹروپولیٹن پولیس کی سربراہ پامیلا اسمتھ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آور کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔ مشتبہ شخص کی شناخت 30 سالہ الیاس روڈریگز کے طور پر کی گئی ہے، جو فائرنگ کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکاروں کے قابو میں آ گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ ہینڈگن سے کیا گیا، اور ہلاک شدگان میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں، دونوں اسرائیلی سفارتی عملے کے ارکان تھے۔

سیاسی نعرے کی بازگشت
پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست حملہ آور نے گرفتاری کے وقت ’آزاد فلسطین‘ کا نعرہ لگایا، جس سے واقعے کے محرکات پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
تحقیقات جاری، سیکیورٹی مزید سخت
واقعے کے بعد میوزیم اور اس کے اطراف کی سیکیورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے جبکہ وفاقی اور مقامی ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ ممکنہ طور پر سیاسی پس منظر رکھتا ہے، تاہم حکام کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل مکمل تفتیش کا انتظار کر رہے ہیں۔