ویب ڈیسک: کراچی ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کی فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آ ف ٹریڈ انڈسٹری آمد ، کراچی کے ٹریفک مسائل زیادہ ہیں ، جو کوشش ہورہی ہے وہ ناکافی ہے ،ہمیں جدید تکنیک کا سہارا لینا ہوگا , ہم ساڑھے پانچ ہزار کی نفری رکھتے ہیں پچیس ہزار بھی ہوجائے تو مسائل حل نہیں ہوں گے .
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا کہنا تھا کہ مسائل قانون پر عمل درآمد اور تکنیک کے استعمال سے حل ہوں گے ، انسان کی یہ نفسیات ہے وہ ہدایت نہیں لینا چاہتا ، جون سے کراچی میں کیمروں کے ذریعے چلان کا عمل درآمد شروع ہوگا ، لوگوں کے پاس پارکنگ کی جگہ نہیں ہو گی تو وہاں کھڑی کریں گے ؟
ہمیں لوگوں کو پارکنگ کی متبادل جگہ دینی ہوگی ، اوور اسپیڈ سمیت کئی مسائل ٹیکنالوجی سے حل ہوں گے ، ٹریکر کا وقت یکم جون سے ختم ہورہا ہے ، جو ٹریکر لگا کر کنٹرول ٹریفک پولیس کو نہیں دیں گے انکی ہیوی گاڑیاں ضبط ہوں گی ۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے واضح کہا کہ کراچی میں بڑی گاڑیوں کی رفتار کی حد 30 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، بڑی گاڑی کا چلان 20 ہزار روپے تک کیا جا ئے گا ، جون میں مہلت ختم ہوجائے گی کوئی نہیں کہہ سکے گا وقت نہیں دیا ، تکنیک کے استعمال اور کیمروں سے نفری کی بچت ہوگی ، روڈ پر پولیس والے چلان کرتے ہیں انکی ضرورت نہیں رہے گی ، اس نفری کا بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ روانی بہتر ہوسکے ۔
ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال جون سے کیمروں کے ذریعے چالان کا آغاز کریں گے، میئر کراچی اور کمشنر کراچی کے ساتھ مل کر مسائل کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، انکروچمنٹ کا طویل مدتی حل نکالنا ہوگا۔
ٹیکنالوجی کے فروغ سے وارڈنز کی نفری کم ہوگی جسے ریگولیشن اور شہریوں کی معاونت کیلئے بروئے کار لایا جائے گا۔