سابق وزیر اعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے اب کوئی امید نہیں کہ یہ الیکشن کراوئیں گے، جمعہ کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان ہو گا۔ عمران خان نے سینیٹر اعظم سواتی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اگر مجھے پکڑ بھی لیں تو لانگ مارچ ہو گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلے گا، ہم صرف الیکشن چاہتے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان لانگ مارچ پرامن ہو گا، میں نے جو بھی کیا آئین و قانون کے دائرے میں ہو گا، لانگ مارچ میں لوگ انجوائے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہمارے لئے سڑکوں پر نکل آئے،ہم نے احتجاج کیا تو انہوں نے ہم پر ظلم کیا،لوگوں کے گھروں میں گھس کر چھاپے مار ے گئے ،احتجاج کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ ان کا جمہوریت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آکر میری پارٹی کو کرش کرنے کی کوشش کی، انہوں نے سب کو بتانے کی کوشش کی کہ ہم سے بری حکومت کسی کی نہیں تھی،ان کا خواب پورا نہ ہوا اور عوام ہمارے ساتھ نکل آئے جس سے یہ خوفزدہ ہو گئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سیاسی افراد کے ساتھ اس طرح کا ظلم کبھی نہیں دیکھا، شہباز گل پر تشدد کیا گیا،اعظم سواتی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کیخلاف ہر فورم پر جاوں گا۔ افسوس ہے کہ عدلیہ نے ازخود نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے کہنا تھا کہ جرائم پیشہ لوگوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، اس ملک پر بڑے بڑے جرائم پیشہ افراد قابض ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کے گھر یہ لوگ بغیر وارنٹ کے گھسے اور بچوں کے سامنے مارا، انہیں حراست میں لے کر کسی اور کے حوالے کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے بڑے جرائم پیشہ افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے یہ سب کیا جا رہا ہے۔شہباز شریف اور اس کے بیٹے کو 16 ارب روپے کے کیس میں سزا ہونے والی تھی۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف مفرور ہے،اس سے فیصلے لے رہے ہیں، پاکستان کو گرے لسٹ میں مسلم لیگ ن نے ہی ڈلوایا تھا۔