ویب ڈیسک: (علی زیدی) چین کی مشہور الیکٹرک کارساز کمپنی BYD نے Tesla کو عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں پیچھے چھوڑنے کے بعد اب لگژری اسپورٹس کاروں کی مارکیٹ میں قدم رکھ دیا ہے۔ کمپنی کے پریمیم برانڈ Denza نے بدھ کے روز اپنی نئی ماڈل Denza Z کی رونمائی کی، جسے Tesla، Porsche اور Mercedes-Benz جیسے مغربی لگژری برانڈز کے مدمقابل تصور کیا جا رہا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ ماڈل Auto Shanghai 2025 کی افتتاحی تقریب میں پیش کیا گیا۔ جسے چین کا سب سے بڑا آٹو شو مانا جاتاہے، جہاں مقامی اور بین الاقوامی آٹو میکرز کی بھرمار ہے۔
BYD کے بانی وانگ چوانفو نے خود Denza Z کی رونمائی کی نگرانی کی، جو ایک گہرے نیلے رنگ کی دلکش اسپورٹس کار ہے۔ ماڈل کی جھلک پہلے ہی لیک ہو چکی تھی، اور کمپنی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ماڈل "ٹیکنالوجی اور لگژری سے مکمل لیس" ہوگا۔
چینی ای وی مارکیٹ میں BYD کی حکمرانی
BYD پہلے ہی چین کی ای وی مارکیٹ میں سب سے آگے ہے اور 2024 میں Tesla سے زیادہ گاڑیاں فروخت کر کے عالمی برتری حاصل کر چکی ہے۔ پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی فروخت میں 60 فیصد اضافہ ہوا اور 10 لاکھ سے زائد نیو انرجی وہیکلز فروخت کیے گئے۔
Tesla کے برعکس، جو صرف بیٹری سے چلنے والی گاڑیاں بناتا ہے، BYD ہائبرڈ اور بیٹری دونوں طرز کی گاڑیاں تیار کرتا ہے۔ Tesla نے 2024 میں 1.79 ملین گاڑیاں فروخت کیں جبکہ BYD نے 4.27 ملین۔
Denza اور Yangwang: لگژری کاروں کا نیا چہرہ
Denza Z کی لانچ کے ساتھ ہی، BYD نے اپنی دوسری لگژری برانڈ Yangwang کی SUV U8L بھی متعارف کروائی، جس کی قیمت ایک ملین یوان (تقریباً 1.37 لاکھ ڈالر) ہے۔ Denza کی N9 SUV حال ہی میں لانچ ہوئی تھی جس کی ابتدائی قیمت تقریباً 53,000 ڈالر رکھی گئی ہے۔
ٹیکنالوجی میں سبقت
BYD نے فروری میں God’s Eye نامی خودکار ڈرائیونگ سسٹم متعارف کروایا، جو Tesla کے Full Self-Driving فیچر کا مقابلہ کرتا ہے، اور وہ بھی بغیر کسی اضافی قیمت کے۔ مارچ میں کمپنی نے ایک نئی فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی بھی پیش کی جو صرف 5 منٹ میں 250 میل کی رینج فراہم کرتی ہے۔
Tesla کے چیلنجز اور تجارتی جنگ
Tesla اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن میں ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی پالیسی، ایلون مسک کا سیاسی کردار، اور فروخت میں کمی شامل ہیں۔ کمپنی کی حالیہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق، اس کی آمدن میں 9 فیصد اور گاڑیوں کی فروخت میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ خالص منافع 71 فیصد تک گر گیا ہے۔
دوسری جانب، BYD نے یورپ میں بھی اپنے پریمیم برانڈ کی لانچنگ کر کے Tesla کو نہ صرف چین بلکہ مغربی مارکیٹ میں بھی ٹکر دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔