(ویب ڈیسک ) مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ جے یو آئی مائنز اینڈ منرل بل مسترد کرتی ہے، دھاندلی کے نتیجے میں قائم حکومتیں عوامی مسائل کے خاتمے میں ناکام ہوچکیں، قوم کو شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کی ضرورت ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس 19 اور 20 اپریل کو لاہور میں منعقد ہوا،اجلاس کے فیصلوں سے متعلق گفتگو ہوگی۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی فلسطین کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھے گی، اسرائیل ایک ناجائز ملک ہے،اس کی حیثیت قابض کی ہے، فلسطین یا عرب کی زمین پر وہ قابض ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کا کہنا کہ ان کی پوزیشن دفاعی ہے،اگر دفاع ہے تو عام شہریوں پر بمباری ہوتی ہے؟، کیا دفاع میں چھوٹے بچوں، خواتین، بوڑھوں اور غیر مسلح لوگوں پر بمباری کرتا ہے ،50 ہزار سے زائد پرامن شہریوں کو جیسی سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا وہ جنگی مجرم ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا مگر اس فیصلے کا احترام امریکا سمیت کوئی نہیں کررہا، حکومتیں اس جنگی جرائم کی پشت پناہی کررہی ہیں ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق ہو، جنیوا ہو، یورپی یونین ہو سب جنگی جرائم کی پشت پناہی کررہے ہیں ، یہ سب ایک صف اور ایک ہی جرم کے مرتکب ہورہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی فلسطینی کاز میں صف اول کے حامی ہیں، جے یو آئی ملک بھر میں ملین مارچ کررہی ہے، 27 اپریل کو لاہور میں فلسطین کے حق میں ملین مارچ ہوگا،پنجاب کے عوام ملین میں فلسطین سے حمایت کےلئے باہر آئیں گے، 11 مئی کو پشاور،15 مئی کو کوئٹہ میں ملین مارچ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک خصوصاً بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ میں بد امنی کی صورتحال ہے ، مسلح تنظیمیں اور گروہ دندناتے پھر رہے ہیں، کوئی رٹ نظر نہیں آرہی، ایسی صورتحال میں عام آدمی اپنی اولاد کو سکول تک بھیجنے سے قاصر ہے ، کاروباری افراد سے منہ مانگے بھتے مانگے جارہے ہیں، حکومتی یا ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام نظر آرہے ہیں ۔
امیر جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ دھاندلی کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتیں عوامی مسائل میں مکمل ناکام ہوچکی ہیں، ہم نے 2018ء کی طرح 2024ء کی اسمبلیوں کو بھی دھاندلی زدہ سمجھتے ہیں ، ہم زور دیتے ہیں کہ قوم کو شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ہی پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے، اگر صوبوں کا حق چھینا جاتا ہے تو ہم اپنے پلیٹ فارم سے میدان میں رہیں گے۔ سیاسی صورتحال میں کچھ مشترک امور سامنے آتے ہیں ،اس حوالے سے مذہبی جماعتوں سے مل کر یا پارلیمانی جماعتوں سے مل کر اشتراک عمل ہو تو اس کا فیصلہ مجلس شوریٰ و عاملہ کرے گی۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اتحاد صرف حکومتی بنچز کا ہوتا ہے، اپوزیشن میں باضابطہ اتحاد کا تصور نہیں ہوتا، اپوزیشن کا باضابطہ موثر اتحاد موجود نہیں، اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے راستے کھلے ہیں، اپوزیشن اتحاد سے متعلق مجلس عمومی نے اجازت نہیں دی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مائنز منرل بل کو مسترد کرتے ہیں، بلوچستان میں جے یو آئی ممبران نے بل کو ووٹ دیا ان سے وضاحت طلب کرلی گئی،شوکاز جاری ہوگئے، اگر جماعت ان کے جواب پر مطمئن نہ ہوئی تو ان کی رکنیت معطل کردینگے،اس کی پرواہ نہیں کہ جماعت کےووٹ کم ہوگئے۔
امیر جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراک عمل جاری رہے گا،مذہبی جماعتوں کے رابطے قائم کرنا مثبت کام ہے،ایک عرصہ ہوچکا تھا منصورہ نہیں جاسکا تھا،پروفیسر خورشید کی وفات پر تعزیت کرنے منصورہ گیا تھا۔