ویب ڈیسک: وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 (لوک سبھا: 3 اپریل 2025، راجیہ سبھا: 4 اپریل 2025، صدارتی منظوری: 5 اپریل 2025) کے بعد آئی آئی او جے کے کے کشمیر ڈویژن میں مساجد، مزارات اور گوردواروں کی وسیع پیمانے پر جانچ اور تصدیقی سروے تیز کر دیے گئے، جو محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ زمین اور مذہبی اثاثوں پر کنٹرول کے ایک منظم فریم ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس سروے کے تحت زمین کی ملکیت، میوٹیشن ریکارڈز، ٹائٹل ویری فکیشن، مسجد کمیٹیوں کا ڈھانچہ، مسالک (بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث، حنفی)، آئمہ و خطباء اور متولیوں کی مکمل تفصیلات، حتیٰ کہ مساجد، مزارات اور گوردواروں کی آمدن، اخراجات، بینک اکاؤنٹس اور فنڈنگ ذرائع تک کو ریاستی نگرانی میں لایا جا رہا ہے، جو زمین کے ساتھ جڑے پورے ادارہ جاتی نظام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔
UMEED ایکٹ 2025 کے تحت وقف جائیدادوں کی مرکزی رجسٹریشن اور ملک گیر حکومتی نگرانی نے مقامی ملکیت کے تصور کو کمزور کر کے ایک مرکزی ڈیٹا بیس کے ذریعے ان اثاثوں کو ریاستی اختیار میں دینے کی راہ ہموار کی ہے۔
زمینی حقائق اس حکمتِ عملی کو مزید واضح کرتے ہیں: دسمبر 2024 میں جموں و کشمیر میں 32,533 وقف جائیدادیں رجسٹرڈ تھیں، جو دسمبر 2025 تک کم ہو کر 25,293 رہ گئیں۔ یہ 7,240 جائیدادوں (تقریباً 22 فیصد) کی نمایاں کمی ہے، جسے محض ڈیجیٹل اپڈیٹ نہیں بلکہ جائیدادوں کے اخراج یا حیثیت کی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے دسمبر 2025 میں اس کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 7,000 وقف جائیدادیں آئی آئی او جے کے میں “غائب” ہو چکی ہیں، جبکہ ملک بھر میں 3.55 لاکھ سے زائد وقف جائیدادوں کے ریکارڈ میں خلا موجود ہے، جو اس پورے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ UMEED پورٹل پر 6 دسمبر 2025 تک جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے پراسیس کی گئی 25,293 جائیدادوں میں سے 25,046 (99.02 فیصد) کو منظور کر لیا گیا، 31 مسترد ہوئیں اور 216 زیرِ عمل رہیں، جو بظاہر بلند تکمیلی شرح دکھاتی ہے مگر مجموعی تعداد میں کمی کے ساتھ تضاد پیدا کرتی ہے۔
قومی سطح پر بھی صورتحال یہی رجحان ظاہر کرتی ہے: بھارت میں تقریباً 8.7 لاکھ وقف جائیدادیں موجود ہیں مگر دسمبر 2025 تک صرف 2.16 لاکھ (تقریباً 27 فیصد) کو مکمل منظوری ملی، جس سے مرکزی کنٹرول کے دائرے میں محدود اور منتخب اندراج کا پہلو سامنے آتا ہے۔
اس کے ساتھ جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے چار صفحات پر مشتمل سوالناموں کے ذریعے ائمہ، خطباء، متولیوں، مؤذنین اور مسجد انتظامیہ کی مکمل ذاتی پروفائلنگ کی جا رہی ہے، جس میں آدھار، پین، خاندانی کوائف، مالی ذرائع، اثاثے، فون ریکارڈ، سوشل میڈیا سرگرمیاں، پاسپورٹ، سفری تاریخ اور موبائل IMEI تک شامل ہیں۔ یہ عمل زمین کے ساتھ جڑی قیادت اور سماجی ڈھانچے کو بھی ریاستی نگرانی میں لینے کی واضح کوشش ہے۔
مزید برآں مساجد سے متعلق نشستوں کی گنجائش، منزلوں کی تعداد، تعمیراتی لاگت، ماہانہ بجٹ اور زمین کی نوعیت جیسے ڈیٹا پوائنٹس اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جو ہر مذہبی اثاثے کو ایک مکمل ڈیجیٹل کنٹرول یونٹ میں تبدیل کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
کشمیر ویلی، جہاں مسلم آبادی 97 فیصد سے زائد ہے اور ہزاروں مساجد و مزارات موجود ہیں، اس عمل کا مرکزی ہدف بنی ہوئی ہے، جبکہ مندروں اور گرجا گھروں پر نسبتاً کم توجہ اس پالیسی کے یکطرفہ اطلاق کو ظاہر کرتی ہے۔
تاریخی طور پر بھی وقف اثاثے کشمیر میں نمایاں رہے ہیں: 2019 سے قبل تقریباً 133 بڑی مساجد و مزارات مرکزی وقف بورڈ کے تحت تھیں، جن کی سالانہ آمدن 26 کروڑ روپے اور 9,500 کنال سے زائد اراضی تھی، جبکہ حضرت بل درگاہ جیسے اہم مذہبی مقامات بھی اس تصدیقی عمل میں شامل کیے جا چکے ہیں۔
مجموعی طور پر، وقف جائیدادوں میں 22 فیصد کمی، مرکزی ڈیجیٹل کنٹرول، 99 فیصد منظوری کے باوجود تعداد میں تضاد، 3.55 لاکھ قومی سطح پر خلا، اور وسیع پولیس پروفائلنگ ایک ایسے مربوط ماڈل کی نشاندہی کرتے ہیں جسے ناقدین کشمیری زمینوں پر “خاموش اور مرحلہ وار قبضہ” قرار دیتے ہیں، جہاں قانونی، انتظامی اور ڈیجیٹل ذرائع کو یکجا کر کے مقامی ملکیت اور خودمختاری کو محدود کیا جا رہا ہے۔