(ویب ڈیسک )افغان طالبان رجیم میں افغانستان دہشتگردی،منشیات اورانسانی اسمگلنگ کےنیٹ ورکس کامرکزبن چکاہے۔ افغان طالبان نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ امریکا،کینیڈا اورآسٹریلیاسمیت کئی ممالک میں بھی دہشتگردی پھیلانےمیں مصروف ہیں۔
معروف عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغان طالبان ایسےدہشتگردگروہوں کومحفوظ پناہ گاہ فراہم کررہےہیں جوخطےاوردنیابھرمیں دہشتگردی پھیلاناچاہتے ہیں۔نائن الیون جیسے اقعات سےبچنےکیلئےطالبان پرعائد پابندیاں مزیدسخت اورافغانستان میں پرامن سیاسی قوتوں کی حمایت کی جائے ۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغانستان میں موجودفتنہ الخوارج کے6ہزار سےزائددہشتگردسرحدوں سےباہر تک پھیلنےکی صلاحیت رکھتےہیں ،گزشتہ سال پاکستان میں فتنہ الخوارج نے600سےزائدحملےکئے،افغانستان سےچینی کاروباری مفادات اورتاجکستان میں سرحدپاراہداف کو نشانہ بنایاگیا ،افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں ،ایسے حالات میں روس کی طرح طالبان کو تسلیم کرنا بڑی غلطی ہوگی ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہجب تک دہشتگردی کیخلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات نہ کئے جائیں افغانستان پر عالمی پابندیاں مزید سخت کرنی چاہئیں،یہ ایک مسلمہ حقیقت ہےافغانستان دہشتگردی کی آماجگاہ بن کرہمسایہ اوردیگر ممالک میں دہشتگردکاروائیوں سےمسلسل خطرات کا باعث بن رہاہے۔