ویب ڈیسک :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ وہ یا تو یوکرین میں جاری اپنی ’نامعقول جنگ‘ ختم کرے یا پھر نئی پابندیوں کا سامنا کرنےکو تیار رہے۔
صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پرروس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے لکھتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنگ ختم کرنے کی ان کی کوششیں دراصل روس اور اس کے صدر کی مدد کے لیے ہیں۔

منگل کے روز صدر ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں عندیہ دیا تھا کہ وہ عنقریب روسی صد پوتن سے بات کریں گے تاہم اگر روسی رہنما مذاکرات پر آمادہ نہ ہوئے تو ان کو مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم بدھ کو ٹروتھ سوشل کی پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ روس کی معیشت بری طرح ناکام ہو رہی ہے اور مذاکرات کی پیشکش دراصل صدر پوتن کی بڑی مدد ہو گی۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’ابھی تصفیہ کریں اور اس مضحکہ خیز جنگ کا خاتمہ کریں جو بد سے بدترہونے والی ہے۔ اگر ہم نے جلدی کوئی ’ ڈیل‘ نہ کی، تو میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچے گا سوائے اس کے کہ روس کی امریکہ اور دیگر شراکت دار ممالک کو بیچی جانے والی کسی بھی چیز پر بھاری ٹیکس، محصولات، اور پابندیاں لگاؤں۔‘
یاد رہے اس سے قبل ٹرمپ یہ دعوی بھی کر چکے ہیں کہ فروری 2022 میں شروع کی گئی روس کی اس جنگ کا تصفیہ کرنا ان کے لیے ایک دن کا کام ہے۔
روس نے صدر ٹرمپ کے ان بیانات پر تاحال ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا تاہم حالیہ دنوں میں سینیئر حکام نے واضح کیا ہے کہ ماسکو کے پاس نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کا ایک محدود موقع موجود ہے۔
روس کی جانب سے یوکرین کے نیٹو میں شامل ہونے کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے روس کےفروری 2022 کے حملے کے بعد سے یو کر ین کو 175 ارب ڈالر کی امداد دی ہے۔دوسری طرف یورپی یونین کا کہنا ہے کہ نیٹو کے ممبر ممالک نے یو کر ین کو 145 ارب ڈالر کی امداد دی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یورپ کو یوکرین کے قریب ہونے کی بنا پر جنگ سے نبرد آزما ملک کو زیادہ امداد دینی چاہیے کیونکہ امریکا کے مقابلے میں یورپی ملک اس جنگ سے زیادہ متاثر ہوں گے۔اس سے پہلے ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ نیٹو اتحاد کے ممبر ممالک دفاع پر کافی پیسہ خرچ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کو اپنا دفاع کا بجٹ بڑھانا چاہیے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر پوتن بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ 2014 سے پہلی بار شروع ہونے والی اس جنگ کے خاتمے کے لیے مزاکرات کرنے پر راضی ہیں تاہم یوکرین کو اپنی زمین پر روس کی20 فیصد برتری کو تسلیم کرنا ہو گا۔
کیئو اپنی زمین چھوڑنے کو تیار نہیں حالانکہ صدرولادیمر زیلینسکی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ انھیں عارضی طور پرروس کی جانب سے قبضہ کی گئی زمین سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’آئیے اس بے نتیجہ جنگ کو ختم کریں جو کبھی شروع نہ ہوتی اگر میں صدر ہوتا !اس جنگ کو ہم آسان یا مشکل طریقے سے ختم کر سکتے ہیں اور آسان طریقہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ یہ وقت ڈیل کرنے کا ہے۔‘
روس کے اقوام متحدہ میں نائب سفیر دیمتری پولیانسکی نے میڈیاکو بتایا کہ کریملن کو آگے بڑھنے سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہوگی کہ ٹرمپ جنگ روکنے کے لیے کسی معاہدے میں کیا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف یوکرین کے صدر زیلینسکی نے منگل کو ورلڈ اکنامک فورم میں کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے تحت کم از کم دو لاکھ امن فوجیوں کی خدمات درکار ہوں گی۔
انھوں نے بلومبرگ کو بتایا کہ روس کے خلاف ایک حقیقت پسندانہ مزاحمت پیدا کرنے کے لیے کسی بھی امن فورس میں امریکی فوجیوں کو شامل ہونا ہوگا۔