زمین کی گردش میں تیزی، دن معمول سے مختصر ہونے لگے

زمین کی گردش میں تیزی، دن معمول سے مختصر ہونے لگے
کیپشن: زمین کی گردش میں تیزی، دن معمول سے مختصر ہونے لگے

ویب ڈیسک: زمین کی رفتار میں حالیہ اضافے کے باعث دن معمول سے مختصر ہوتے جا رہے ہیں، جس نے ماہرین فلکیات اور عالمی وقت ناپنے والے اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے زمینی گردش اور امریکی نیول آبزرویٹری کے مطابق، 10 جولائی کا دن اس سال کا سب سے مختصر دن تھا، جو 1.36 ملی سیکنڈ کم رہا۔ دوسرامختصر دن 22 جولائی تھااور تیسرا 5 اگست کو بھی متوقع ہیں، جن میں بالترتیب 1.34 اور 1.25 ملی سیکنڈ کی کمی دیکھی جائے گی۔

اگرچہ دن کی اوسط طوالت 24 گھنٹے یا 86,400 سیکنڈ ہوتی ہے، مگر حقیقت میں زمین کی گردش مختلف موسمی، چاند کی کشش ثقل اور زمین کے مائع کور جیسے عوامل سے متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں یہ وقت میں معمولی فرق لاتی ہے۔

یہ معمولی فرق روزمرہ زندگی پر فوری اثر نہیں ڈالتے، تاہم طویل مدت میں کمپیوٹر سسٹمز، سیٹلائٹس اور مواصلاتی نظام متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایٹمی گھڑیوں کے ذریعے وقت کی درست پیمائش کی جاتی ہے، جس سے یونیورسل کوآرڈینیٹڈ ٹائم (UTC) کا تعین کیا جاتا ہے۔

1972 سے اب تک 27 اضافی سیکنڈ UTC میں شامل کیے جا چکے ہیں تاکہ گردش میں آنے والی سست روی کو ایڈجسٹ کیا جا سکے، لیکن اب زمین کی رفتار میں اضافے کی وجہ سے منفی لیپ سیکنڈ (Negative Leap Second) شامل کرنے کی نوبت آ سکتی ہے، جو آج تک کبھی نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زمین کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2035 تک اس منفی لیپ سیکنڈ کی 40 فیصد ممکنہ ضرورت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے تکنیکی اثرات Y2K جیسے مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور برف کے پگھلنے سے زمین کی گردش کی رفتار کسی حد تک سست ہو رہی ہے، جو اس عمل کو وقتی طور پر متوازن رکھ رہی ہے۔ تاہم مستقبل میں یہ اثرات چاند کی کشش سے بھی زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔

Watch Live Public News