ویب ڈیسک: ایران کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کو تیل کی فروخت سے روکا گیا تو کسی دوسرے ملک کے لیے بھی تیل کی ترسیل ممکن نہیں رہے گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بدھ کو جاری بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تنازع کا اصول "سب یا کوئی نہیں" کی صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی سلامتی یقینی نہیں بنائی جاتی تو خطے میں کسی بھی بنیادی تنصیب کا تحفظ ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا تحفظ امریکی افواج کی عدم موجودگی سے مشروط ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ایران کئی مرتبہ واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حالات دوبارہ جنگ سے پہلے جیسے نہیں ہوں گے۔
معادلهٔ این جنگ مشخص است: یا همه یا هیچکس!
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) July 22, 2026
در منطقهای که ما نفت نفروشیم، کسی نفت نخواهد فروخت. اگر امنیت ما تأمین نشود، هیچ زیرساختی ایمن نخواهد بود و امنیت تنگه در نبود نیروهای آمریکایی است. بارها گفتهایم که وضعیت تنگه به قبل از جنگ باز نمیگردد.
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر تہران آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز کو نشانہ بناتا ہے تو امریکا جواباً ایران کی اہم تنصیبات کو ہدف بنا سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اگر تجارتی جہاز تہران کے مقرر کردہ بحری انتظامات کے تحت رابطے اور ہم آہنگی کے ساتھ سفر کریں تو آبنائے ہرمز سے ان کی آمد و رفت محفوظ رہے گی۔ تاہم ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔