ویب ڈیسک: سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر عارف علوی کے منجمد بینک اکاؤنٹس کیس میں تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور ان کے اہل خانہ کے منجمد بینک اکاؤنٹس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران تفتیشی افسر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر مسلسل غیر حاضر رہتے ہیں، آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش ہونا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس کی مزید سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سابق صدر کے ذاتی بینک اکاؤنٹ سے 10 لاکھ روپے تک کی رقم نکالنے کی عبوری اجازت دی تھی تاکہ بنیادی اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف آئی اے نے اینٹی منی لانڈرنگ کی انکوائری کی بنیاد پر سابق صدر، ان کی اہلیہ اور بچوں کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں، جس سے اہلِ خانہ کو روزمرہ کے اخراجات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں، مگر تاحال کوئی قانونی نوٹس یا دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام انکوائریاں اور اقدامات سیاسی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں، اور سابق صدر کو ان کی سیاسی وابستگی کی سزا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیملی کے کم از کم بنیادی اخراجات کے لیے محدود بینکاری سہولیات کی اجازت دی جائے، تاکہ روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔